کراچی میں شاہراہِ شہیدِ ملت پر بدھ کی رات ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مشتبہ ڈاکو ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو چیکنگ کے لیے رکنے کا اشارہ کیا، مگر پولیس کے بقول انہوں نے رکنے کے بجائے فائرنگ شروع کردی۔ اس کے بعد ہونے والے مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا۔
فیروزآباد کے ایس ایچ او عادل افضل نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عثمان عرف نورالبشر کے نام سے کی۔ ان کے مطابق پولیس نے اس کے قبضے سے اسلحہ، ایک موبائل فون، موٹر سائیکل اور چھینی گئی نقد رقم برآمد کی۔ افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم نے ضلع ایسٹ اور کورنگی میں خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی، جبکہ اس کے خلاف مختلف تھانوں میں سات مقدمات درج تھے۔
اسی واقعے کو شہر میں اسٹریٹ کرائم کے خلاف جاری کارروائیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایک الگ کارروائی میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایک زخمی مشتبہ ڈاکو کو مبینہ مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس ملزم پر الزام ہے کہ اس نے چند روز قبل جوہر موڑ پر موبائل فون چھیننے کے دوران مزاحمت کرنے والے ایک شہری کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق شارع فیصل پولیس نے اطلاع ملنے پر دلمیا قبرستان کے قریب کارروائی کی، جہاں دو مسلح ملزمان نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی۔
کراچی میں اس نوعیت کے کئی واقعات کی طرح اس معاملے میں بھی ابتدائی معلومات زیادہ تر پولیس کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ فی الحال سامنے آنے والی تفصیلات میں یہی بتایا گیا ہے کہ واقعہ کیسے پیش آیا، ہلاک ہونے والے مشتبہ شخص کی شناخت کیا تھی، اس کے قبضے سے کیا چیزیں برآمد ہوئیں اور اس کے خلاف کتنے مقدمات درج تھے۔ کسی آزاد گواہی، فرانزک شواہد یا عینی شاہدین کی تفصیل شامل نہیں تھی۔ اس لیے یہ واقعہ بظاہر انسدادِ اسٹریٹ کرائم مہم کا حصہ تو دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بعض پہلوؤں کی مزید جانچ اب بھی اہم رہے گی.
