کراچی — متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ایک بار پھر ملک بھر میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کا مطالبہ اٹھا دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اور اب انتظامی تقسیم ہی واحد راستہ ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران پارٹی رہنماؤں نے اسے سیاسی بیان بازی کے بجائے آئینی ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبوں کا موجودہ حجم بہت بڑا ہے جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔
ایم کیو ایم کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ملک کی تقسیم نہیں، بلکہ انتظامی بہتری کی بات کر رہے ہیں۔ جب عوام اپنے صوبائی دارالحکومتوں سے مایوس ہو جائیں تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرے۔”
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم کیو ایم اپنی انتخابی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ شہری سندھ میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال رکھنے کے لیے پارٹی کے پاس یہ ایک اہم بیانیہ ہے۔
دوسری جانب سندھ میں دہائیوں سے برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اس مطالبے کی سخت مخالف ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اسے صوبائی خودمختاری پر حملہ اور وفاق کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئینی طور پر کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ سیاسی ماحول میں ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
ملک کو درپیش معاشی بحران اور مرکزی حکومت سے بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے پیش نظر، ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مطالبہ محض سیاسی دباؤ کا ایک حربہ ثابت ہوگا یا یہ واقعی ملک میں ایک نئی آئینی بحث کا آغاز ہے۔
