لاہور — پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کی گرفتار رہنما عالیہ حمزہ کو کوٹ لکھپت جیل کے اندر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے بدھ کی شب یہ معاملہ اٹھایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں قید عالیہ حمزہ کو جیل میں سیکیورٹی سرچ آپریشن کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی ترجمانوں نے اسے "خوف و ہراس پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش” قرار دیا ہے تاکہ زیر حراست پارٹی رہنماؤں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔
جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے ایک وکیل نے کہا، "عالیہ حمزہ کو محض دھکا نہیں دیا گیا، بلکہ جیل عملے نے انہیں باقاعدہ نشانہ بنایا جو واضح طور پر پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔”
دوسری جانب، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکام نے اسے "بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیا ہے جس کا مقصد عوامی اشتعال پیدا کرنا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے ایک اعلیٰ افسر نے دعویٰ کیا کہ معمول کی تلاشی کے دوران سیکیورٹی پروٹوکول پر عمل کیا گیا اور کسی قیدی پر جسمانی طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا۔
عالیہ حمزہ کے اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو انہیں طے شدہ ملاقات سے روک دیا گیا، جسے وہ حکام کی جانب سے جسمانی نشانات کو چھپانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے جیل کے حالات پر اٹھائے گئے خدشات کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل بھی پارٹی کی دیگر خواتین رہنما جیل میں طبی سہولیات کے فقدان، ناقص صفائی اور نفسیاتی دباؤ کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے نزدیک یہ ریاستی جبر کا تسلسل ہے، جبکہ صوبائی حکومت اسے محض سیاسی مقاصد کے لیے کیا جانے والا پروپیگنڈا قرار دیتی ہے۔
جیسے ہی قانونی ٹیم اس معاملے پر عدالتی انکوائری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی ہے، صوبائی محکمہ داخلہ کی خاموشی مزید قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے۔ یہ معاملہ منظم تشدد کا نتیجہ ہے یا سیاسی داؤ پیچ کا حصہ، اس کا حتمی فیصلہ تو وقت کرے گا، مگر عالیہ حمزہ کے لیے سلاخوں کے پیچھے زندگی مزید کٹھن ہو چکی ہے۔
