کراچی اور سندھ کے دیگر اضلاع میں 2 اگست سے مون سون کا نیا اور طاقتور سلسلہ داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب سے اٹھنے والی نمی کے باعث صوبے کے بیشتر حصوں میں تیز بارشیں متوقع ہیں، جس سے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ محض ایک معمولی بارش کا سلسلہ نہیں بلکہ محکمہ موسمیات کے ماہرین اسے ایک توانا سسٹم قرار دے رہے ہیں جو ہفتے کے اختتام تک صوبے کے مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں رکھے گا۔ کراچی کے لیے چیلنج پرانا ہے؛ شہر کا بوسیدہ نکاسی آب کا نظام ایک بار پھر امتحان میں ہے۔ پچھلی بارشوں کے بعد زمین پہلے ہی پانی جذب کر چکی ہے، جس کے باعث اب معمولی بوندا باندی بھی وسطی اور کورنگی جیسے اضلاع میں سڑکوں کو تالاب میں بدلنے کے لیے کافی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں اور پانی جمع ہونے کے مقامات پر بھاری مشینری پہلے سے تعینات کی جائے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر ماہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم سسٹم کی شدت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سمندر سے آنے والی نمی کا دباؤ زیادہ ہے اور اس کا پہلا وار ساحلی پٹی پر ہوگا۔”
شہریوں کے لیے یہ پیش گوئی ایک پرانی پریشانی کی یاد دہانی ہے۔ شہر کا بجلی کا نظام—جو اکثر زیر زمین کیبلز میں پانی داخل ہونے سے بیٹھ جاتا ہے—ایک بار پھر خطرے کی زد میں ہے۔ نارتھ ناظم آباد اور گلشن اقبال جیسے علاقوں کے مکینوں نے ابھی سے ان طویل لوڈ شیڈنگ کے خدشات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے جو عام طور پر بارش کے بعد معمول بن جاتی ہیں۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں جہاں یہ بارشیں خریف کی فصلوں کے لیے زندگی کی نوید ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں شہری زندگی کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی ٹھوس ہنگامی منصوبہ تاحال سامنے نہیں آیا، جس کے بعد شہریوں کو خدشہ ہے کہ شہر کی اہم شاہراہیں ایک بار پھر ٹریفک جام کا شکار ہوں گی۔
بادل چھا رہے ہیں، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلدیاتی ادارے اس بار اپنی تیاریوں کے ذریعے شہر کو ڈوبنے سے بچا پائیں گے یا نہیں؟
