ایران نے ہفتہ 18 اپریل 2026 کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں، یوں صرف ایک دن پہلے کیے گئے اس اعلان کو واپس لے لیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ تجارتی جہازوں کے لیے گزرگاہ کھول دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کیا، اور اسی وجہ سے خطے میں کشیدگی پھر تیزی سے بڑھ گئی۔
اس بحران کی اصل گرہ یہی ہے کہ واشنگٹن اپنی کارروائی کو ایرانی بندرگاہوں تک محدود دباؤ قرار دے رہا ہے، جبکہ تہران اسے براہ راست بحری محاصرہ سمجھتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو مزید سخت کر رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 12 اپریل کے بیان میں کہا تھا کہ 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل یا وہاں سے نکلنے والی بحری آمد و رفت کو روکا جائے گا، تاہم غیر ایرانی بندرگاہوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آزادیٔ نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
مگر زمینی حقیقت کاغذی وضاحتوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے دوبارہ پابندیاں لگاتے ہوئے بعض تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا، جن میں بھارتی پرچم والے جہاز بھی شامل تھے۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ایک بحری نگرانی ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ عمان کے قریب ایک ٹینکر پر ایرانی فورسز نے فائرنگ کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ صرف سفارتی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ سمندر میں موجود جہاز اب براہ راست خطرے کے ماحول میں کام کر رہے ہیں۔
ایک دن پہلے منظر کچھ اور تھا۔ 17 اپریل کو ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز “مکمل طور پر کھلی” ہے اور تجارتی جہاز گزر سکتے ہیں۔ اسی اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں وقتی نرمی دیکھی گئی تھی اور یہ تاثر ابھرا تھا کہ شاید خطے میں کشیدگی کم ہونے لگی ہے۔ لیکن اس بیان کے ساتھ یہ تنبیہ بھی موجود تھی کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو صورتحال پھر بدل سکتی ہے۔ ہفتے کے روز بالکل یہی ہوا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے قریب 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ اسی لیے یہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈیوں، انشورنس لاگت، بحری کرایوں اور توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ابھی مکمل اور مستقل بندش کی باضابطہ تصویر سامنے نہیں آئی، لیکن غیر یقینی کی یہ کیفیت ہی عالمی منڈیوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
اس پوری کشیدگی کا پس منظر بھی اہم ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق یہ بحران ایک وسیع تر جنگی اور سفارتی تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے، اور پاکستان سمیت بعض ممالک پسِ پردہ رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کی کوششوں میں شامل ہیں۔ تاہم ہفتے کی پیش رفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عارضی نرمی کو پائیدار پیش رفت سمجھنا قبل از وقت تھا۔ فی الحال آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست، فوجی طاقت اور توانائی کی سلامتی کے بیچ پھنسے ایک خطرناک محاذ میں بدل چکی ہے۔
