فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے، جہاں پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بڑے تصادم سے بچنے کا راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران پاکستانی وفد نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں “پائیدار علاقائی امن” کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تھے۔ دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی گئیں۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، سفارتی رابطوں اور طویل المدتی استحکام کے لیے ممکنہ تعاون پر گفتگو ہوئی۔
اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایسے وقت میں مکمل ہوا جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارہ اے پی کے مطابق یہ بات چیت تقریباً 21 گھنٹے جاری رہی، مگر اس کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ پاکستان اس تمام عمل میں رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی اور ایرانی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ پس پردہ رابطے برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی، تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک ایسے پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔
رائٹرز اور دیگر ذرائع کی رپورٹوں میں بھی پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ بندی کو نازک اور غیر یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ 18 اپریل 2026 کی رپورٹوں میں یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال دوبارہ دباؤ میں آ گئی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں استحکام ابھی بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا۔
پاکستانی مؤقف میں اس دورے کا ایک اور نمایاں پہلو ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش بھی تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا، ایرانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا، اور دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگرچہ تہران میں کسی بڑے بریک تھرو یا نئے معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، لیکن سفارتی حلقوں میں اس دورے کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وجہ صاف ہے: جب خطہ مسلسل دباؤ میں ہو، جنگ بندی کمزور دکھائی دے، اور براہِ راست مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوں، تو محض رابطہ برقرار رہنا بھی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
