مری میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جبکہ ریلیوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امن و امان برقرار رکھنے، سیاحوں کے متوقع رش کو قابو میں رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا۔ پابندیاں 31 دسمبر سے یکم جنوری تک نافذ رہنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے صرف اجتماعات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ہوائی فائرنگ، آتش بازی، لاؤڈ اسپیکر، اونچی آواز میں موسیقی، ہلڑ بازی اور ون ویلنگ کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو سیاحتی مقامات پر کڑی نگرانی کی ہدایت دی گئی تاکہ جشن کے دوران حالات قابو میں رہیں۔
مرکزی علاقوں میں داخلے پر بھی سختی کی گئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق مال روڈ اور جی پی او چوک جیسے حساس اور مصروف مقامات پر صرف خاندانوں کو جانے کی اجازت دی گئی، جبکہ اکیلے آنے والے افراد یا بغیر خاندان سیاحوں کی رسائی محدود رکھی گئی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ قدم ہجوم کم کرنے اور گنجان مقامات پر بے ترتیبی روکنے کے لیے ضروری تھا۔
مری میں اس نوعیت کی پابندیاں نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی ضلعی انتظامیہ بڑے تہواروں، یومِ آزادی یا غیرمعمولی سیاحتی دباؤ کے دوران دفعہ 144 نافذ کرتی رہی ہے تاکہ ٹریفک، سکیورٹی اور ہجوم پر قابو رکھا جا سکے۔ حالیہ فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نئے سال کی تقریبات کے باعث مری میں غیرمعمولی رش متوقع تھا۔
انتظامیہ نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفری ہدایات پر عمل کریں، پولیس سے تعاون کریں اور جشن مناتے ہوئے قانون شکنی سے گریز کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد تفریح روکنا نہیں بلکہ اسے محفوظ بنانا ہے، تاکہ مری میں سالِ نو کی خوشی بدامنی یا حادثات میں تبدیل نہ ہو۔
