مئی کا مہینہ ریکارڈ تاریخ میں دوسرا گرم ترین مئی ثابت ہوا ہے، جس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں شدید گرمی کے مسلسل بارہ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک سال سے عالمی درجہ حرارت مسلسل ریکارڈ سطح پر ہے، جو کرہ ارض کے بدلتے ہوئے موسمیاتی معیار کی تصدیق کرتا ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ مئی میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے اوسط سے 1.52 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ اگرچہ یہ 2016 کے ریکارڈ سے تھوڑا کم ہے، لیکن یہ مسلسل بارہواں مہینہ ہے جب عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد کو چھو رہا ہے—یہ وہی حد ہے جس کا تعین 2015 کے پیرس معاہدے میں ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔
کوپرنیکس سروس کے ڈائریکٹر کارلو بونٹیمبو کا کہنا ہے کہ "یہ صورتحال حیران کن تو ہے لیکن غیر متوقع نہیں۔” ان کے مطابق، درجہ حرارت میں یہ طویل اور مسلسل اضافہ محققین کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ ‘ایل نینو’ جیسے قدرتی موسمی عوامل گرمی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، لیکن اس گرمی کے طویل دورانیے کا مطلب یہ ہے کہ ماحولیاتی نظام میں گہری اور انسانی سرگرمیوں سے جڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
یہ گرمی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس کے اثرات دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔ بھارت میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہر ہو یا برازیل میں تباہ کن سیلاب، موسمیاتی ڈیٹا زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار ابتدائی ماڈلز سے کہیں زیادہ تیز ہے، جس نے پالیسی سازوں کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آئندہ برس کے حوالے سے ماہرین محتاط ہیں۔ ایل نینو کا اثر اب کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ‘لا نینا’ لے رہا ہے، جس سے درجہ حرارت میں معمولی کمی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بحر الکاہل میں عارضی ٹھنڈک سے مجموعی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔
