ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی میز پر واپس آنے میں بہت دیر کر دی ہے، اور اب اسے اس کی ‘قیمت چکانا پڑے گی’۔ نومنتخب امریکی صدر کے یہ الفاظ ان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی ایران کے حوالے سے سخت گیر پالیسی کا واضح اشارہ ہیں۔
پیغام صاف ہے: ایران کے لیے ڈیل کا دروازہ بند ہو رہا ہے، اور اب سفارتی اور معاشی مشکلات کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
ٹرمپ کی ٹیم اپنے پہلے دورِ حکومت کی ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کو نئے سرے سے نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنا اور ان مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنا ہے جن کے ذریعے تہران اپنے علاقائی اتحادیوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ مذاکرات میں تاخیر کو ایک ‘اسٹریٹجک ناکامی’ قرار دے کر ٹرمپ نے نئی پابندیوں کے فوری نفاذ کے لیے راہ ہموار کر لی ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کا موقف تاحال سخت ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ معاشی گلا گھونٹنے والی دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے سے امریکہ کا یکطرفہ انخلا واشنگٹن کی ساکھ کو تباہ کر چکا ہے۔ اگرچہ تہران ٹرمپ کے بیانات کو محض ‘بڑبولا پن’ قرار دے رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایرانی معیشت پہلے ہی سخت پابندیوں اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
ٹرمپ کی ٹیم کا اندازہ ہے کہ موجودہ معاشی دباؤ، نئی پابندیوں کے ساتھ مل کر، ایرانی حکومت کو مجبور کر دے گا۔ یہ پالیسی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تہران اپنی علاقائی بالادستی کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گا — ایک ایسا مفروضہ جو ماضی میں کئی بار غیر مستحکم ثابت ہو چکا ہے۔
اس کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں میں نمایاں ہیں۔ تاجروں نے سپلائی میں خلل کے خدشے کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
نئی امریکی انتظامیہ کے لیے یہ صرف جوہری معاہدے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک بڑی مہم ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو واضح ہدایات دی ہیں: بات چیت کا وقت ختم ہوا، اب دباؤ بڑھانے کا وقت ہے۔
