پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان اپنی جماعت کے تین سینئر رہنماؤں—حامد خان، سلمان اکرم راجہ اور انتظار پنجوتھا—کی کارکردگی سے ناخوش بتائے جا رہے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر رابطوں کی کمی، باہمی بداعتمادی اور قیادت پر تنقید ایک بار پھر کھل کر سامنے آ رہی ہے۔
اس تناؤ کی ایک بڑی وجہ اڈیالہ جیل میں مجوزہ ملاقات کا وہ معاملہ بھی دکھائی دیتا ہے جس میں پی ٹی آئی کے کئی بڑے رہنما عمران خان سے ملنے نہیں پہنچ سکے۔ 17 اپریل کی رپورٹس کے مطابق جیل حکام کو جو فہرست بھیجی گئی تھی، اس میں بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، حامد خان، انتظار پنجوتھا اور سلمان اکرم راجہ کے نام شامل تھے، مگر مقررہ وقت ختم ہونے تک کوئی بھی رہنما جیل نہ پہنچا۔ یہی واقعہ بعد میں پارٹی کے اندر سوالات اور ناراضی کا سبب بنا۔
سلمان اکرم راجہ پہلے ہی حالیہ دنوں میں دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ اس وقت تیز ہوا جب ان کے بعض بیانات پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ اس پس منظر میں اڈیالہ جیل ملاقات کا نہ ہو پانا محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر وسیع تر تناظر میں بھی پی ٹی آئی کے اندر اختلافات نئی بات نہیں رہے۔ جیو اور دی نیوز کی رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا میں پارٹی کے اندر دھڑے بندی، قیادت کے اختیارات، عوامی بیانات اور سیاسی حکمتِ عملی پر تنازعات نے بحران کو گہرا کیا ہے۔ ایک اور حالیہ رپورٹ میں سینیٹ ٹکٹ کے معاملے پر بھی اندرونی کشمکش کی نشاندہی کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک ملاقات یا تین ناموں تک محدود نہیں۔
ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی کہ ان تین رہنماؤں کے خلاف فوری تنظیمی کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم سیاسی اشارہ واضح ہے: پی ٹی آئی بظاہر اتحاد کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے، مگر اندرونِ خانہ ناراضی، بدگمانی اور قیادت کے فیصلوں پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا پارٹی اس اختلاف کو قابو میں لاتی ہے یا یہ کشیدگی مزید کھل کر سامنے آتی ہے۔
