پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکانِ اسمبلی نے پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کی رفتار اور مؤثریت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مزید مؤثر حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ پارٹی اجلاسوں میں پی ٹی آئی اراکین نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سیاسی اور تنظیمی اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر بعض ارکان نے سوال اٹھایا کہ پارٹی قیادت اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے اب تک کی جانے والی کوششوں کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت کیوں نہیں ہو سکی۔
اجلاس میں شریک اراکین کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پارٹی کارکنوں اور ووٹرز کی اہم توقعات میں شامل ہے، لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لیے سیاسی، پارلیمانی اور قانونی سطح پر مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض ارکان نے موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی اور نئی تجاویز پر غور کرنے کی بھی سفارش کی۔
مباحثے کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان، گورننس اور عوامی مسائل سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔ شرکاء نے پارٹی کے اندر بہتر رابطہ کاری اور تنظیمی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ پارٹی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور تمام آئینی و جمہوری ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بعض منتخب نمائندوں کی جانب سے سامنے آنے والے یہ تحفظات پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں کارکنان اور رہنما بانی جماعت کی رہائی کے حوالے سے زیادہ واضح اور مؤثر لائحہ عمل کے خواہاں ہیں۔
