آسٹریلیا نے ہفتے کے روز پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ نیتھن ایلس اور میتھیو شارٹ کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور مہمان ٹیم سستے میں ڈھیر ہو گئی۔
میچ کے دوران آسٹریلوی پیسرز نے وکٹ کی نمی اور باؤنس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پاکستانی اوپنرز کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر سنبھلنے میں ناکام رہا۔ شارٹ کی آف اسپن بولنگ نے پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا، جبکہ ایلس نے ٹیل اینڈرز کو جلد پویلین بھیج کر اننگز کا خاتمہ کیا۔
میتھیو شارٹ اس میچ میں آسٹریلیا کے لیے ‘سرپرائز پیکج’ ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنی گیندوں کی رفتار میں تبدیلیوں کے ذریعے پاکستانی بیٹرز کو الجھائے رکھا۔ دوسری جانب نیتھن ایلس نے اپنی نپی تلی لائن اور لینتھ سے وکٹ پر دباؤ برقرار رکھا۔ دونوں باؤلرز نے مجموعی طور پر سات وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
شکست کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کو اس بات کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ ایک اچھی پوزیشن پر ہونے کے باوجود بلے باز دباؤ میں کیوں بکھر گئے۔ آسٹریلیا نے پہلے میچ کی غلطیوں سے سیکھا اور اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے پاکستانی بیٹرز کو مسلسل وکٹوں پر کھیلنے پر مجبور کیا۔
سیریز اب فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیم جہاں اس جیت کے بعد اعتماد سے سرشار ہے، وہیں پاکستان کے لیے آخری میچ میں اپنی بیٹنگ کی خامیوں کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
آخری میچ میں اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا پاکستانی ٹیم اپنی بیٹنگ لائن کی اس کمزوری پر قابو پاتی ہے یا آسٹریلیا کی بولنگ یونٹ دوبارہ ان پر حاوی رہے گی۔
