واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے پر اتوار کے روز دستخط متوقع ہیں، جس سے کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے بعد صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور اس سے خطے میں استحکام اور امن کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بحالی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے معاہدے کے وقت کے تعین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اتوار کو معاہدہ طے پانے کا امکان کم ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آئندہ چند دنوں میں پیش رفت ممکن ہے، لیکن کسی حتمی تاریخ کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں جنگ بندی کے انتظامات، اہم بحری راستوں کی بحالی اور سلامتی و جوہری امور سے متعلق مستقبل کے مذاکرات جیسے موضوعات زیرِ غور ہیں۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فریقین نے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم بعض اہم نکات پر مزید مشاورت جاری ہے۔
اس پیش رفت پر عالمی برادری اور مالیاتی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا دونوں فریق باقی ماندہ اختلافات دور کرکے باضابطہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔
