مالی میں ہفتے کے روز ہونے والے مربوط حملوں نے یہ واضح کر دیا کہ ملک میں سرگرم مسلح گروہ اب بھی نہ صرف منظم ہیں بلکہ ایک ہی وقت میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دارالحکومت باماکو، فوجی مرکز کاتی، شمالی شہروں گاؤ اور کیدال، اور وسطی علاقے سیوارے/موپتی کے قریب فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد یہ کارروائی حالیہ برسوں کی بڑی اور غیر معمولی یلغاروں میں شمار کی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی رپورٹس کے مطابق باماکو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک شدید فائرنگ سنی گئی، جبکہ فوجی تنصیبات کے اطراف ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے دیکھے گئے۔ مالی کی فوج نے ابتدائی بیان میں کہا کہ “نامعلوم مسلح دہشت گرد گروہوں” نے چند مقامات اور بیرکوں کو نشانہ بنایا اور فوجی دستے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ بعد میں سرکاری ترجمان جنرل عیسیٰ عثمان کولیبالی نے ریاستی ٹی وی پر بتایا کہ کم از کم 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں شہری اور فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں، جبکہ کئی حملہ آور مارے گئے۔ تاہم فوری طور پر ہلاکتوں کی مکمل سرکاری تعداد جاری نہیں کی گئی۔
ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک گروہ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) نے قبول کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گروہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ کارروائیاں آزواد لبریشن فرنٹ کے ساتھ مل کر کیں، جو تواریگ علیحدگی پسند دھڑا بتایا جاتا ہے۔ اگر یہ مشترکہ آپریشن واقعی اسی نوعیت کا تھا جیسا دعویٰ کیا گیا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی میں جہادی اور علیحدگی پسند قوتوں کے درمیان عملی تعاون ایک نئی شدت اختیار کر رہا ہے۔
اس خبر کا سب سے اہم پہلو صرف یہ نہیں کہ کئی شہروں پر بیک وقت حملے ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ نشانہ بننے والے مقامات علامتی اور عسکری دونوں اعتبار سے اہم تھے۔ باماکو اور کاتی جیسے حساس مراکز تک رسائی نے حکومت کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا ہے کہ بڑے شہری مراکز نسبتاً محفوظ ہو چکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تجزیہ کاروں نے اس کارروائی کو 2012 کے بعد کی سب سے نمایاں اور جرات مندانہ یلغاروں میں سے ایک قرار دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ باغی نیٹ ورکس صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مالی کی فوجی حکومت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔ ملک میں کئی برس سے شورش جاری ہے، اور بغاوتوں، علاقائی عدم استحکام اور بدلتی بین الاقوامی شراکت داریوں نے سکیورٹی منظرنامہ مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تازہ حملوں نے اس بحث کو پھر زندہ کر دیا ہے کہ آیا ریاست واقعی زمینی کنٹرول بحال کر پائی ہے یا صرف بڑے شہروں کے تحفظ کا تاثر برقرار رکھا گیا تھا۔
فوری طور پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا یہ ایک روزہ نمایشی حملہ تھا یا کسی وسیع تر مہم کا آغاز۔ ابھی یہ بات آزاد ذرائع سے پوری طرح ثابت نہیں ہوئی کہ حملہ آوروں نے کن علاقوں میں کتنی دیر تک عملی کنٹرول رکھا، لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ ان کی منصوبہ بندی، نقل و حرکت اور ہدف چننے کی صلاحیت نے مالی کی سکیورٹی مشینری کے لیے ایک سخت پیغام چھوڑا ہے: خطرہ کم نہیں ہوا، بلکہ شاید پہلے سے زیادہ منظم ہو گیا ہے۔
