ٹوکیو — جاپان نے برسوں تک دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ سیاح لانے کی کوشش کی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کے بعض مشہور شہروں اور تاریخی مقامات پر اصل بحث یہ نہیں کہ کتنے سیاح آ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے ہجوم اور بدسلوکی کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔ جاپان کی سیاحت ایجنسی نے خود تسلیم کیا ہے کہ کچھ علاقوں اور مخصوص اوقات میں سیاحوں کا ارتکاز “شدید بھیڑ” اور “آداب کی خلاف ورزیوں” کا باعث بن رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے اور خود سیاحوں کے تجربے پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔
یہ مسئلہ سب سے زیادہ ان مقامات پر نمایاں ہے جو سوشل میڈیا کی وجہ سے حد سے زیادہ مقبول ہو گئے ہیں۔ ماؤنٹ فوجی کے قریب فوجی یوشیدا شہر میں حکام نے اس سال چیری بلاسم فیسٹیول ہی منسوخ کر دیا، کیونکہ مقامی انتظامیہ کے مطابق سیاحوں کی بڑھتی ہوئی بدتمیزی، نجی املاک میں داخلہ، کچرا، ٹریفک جام اور بے ہنگم ہجوم نے حالات ناقابلِ برداشت بنا دیے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شہر نے سکیورٹی بھی بڑھائی اور بعض مقامات تک رسائی محدود کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔
ماؤنٹ فوجی کے گرد و نواح میں یہ صرف ایک مقام کا مسئلہ نہیں رہا۔ یاماناشی اور دیگر مقامی حکام پہلے ہی اس پہاڑی علاقے میں ہجوم، غیرمحفوظ چڑھائی اور دباؤ کم کرنے کے لیے فیس، گیٹس اور منظم داخلے جیسے اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ قومی سطح پر بھی “اوور ٹورزم” کو روکنے کے لیے پالیسی پیکج نافذ ہے۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ سیاحت کو بند نہیں کرنا، بلکہ اسے اس طرح چلانا ہے کہ مقامی زندگی بھی متاثر نہ ہو۔
کیوٹو میں، جو شاید جاپان کے اوور ٹورزم بحران کی سب سے علامتی مثال بن چکا ہے، گِیون ضلع کی بعض نجی گلیوں میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ وجہ وہی پرانی مگر سنگین شکایات تھیں: راستہ روکنا، نجی حدود میں گھسنا، اور گیشا و مائیکو کی تصاویر لینے کے لیے انہیں ہراساں کرنا۔ رپورٹس کے مطابق پابندی نجی گزرگاہوں پر ہے، جبکہ مرکزی عوامی سڑکیں بدستور کھلی رہتی ہیں۔
ملک کے دوسرے حصوں میں بھی انداز بدل رہا ہے۔ اوٹارو شہر میں، جو خوبصورت مناظر اور فوٹو پوائنٹس کی وجہ سے خاصا مقبول ہو چکا ہے، حکام نے سکیورٹی گارڈز تعینات کیے تاکہ سیاح خطرناک جگہوں پر تصویریں لینے کے لیے ہجوم نہ کریں اور مقامی ٹریفک و ریل نظام متاثر نہ ہو۔ گارڈین کے مطابق یہ اقدام ایک جان لیوا حادثے اور مسلسل بڑھتے ہوئے بے احتیاطانہ رویّوں کے بعد کیا گیا۔
جاپان کی حکومت کا پیغام نسبتاً واضح ہے: ملک کو سیاح اب بھی چاہییں، مگر ہر قیمت پر نہیں۔ سرکاری پالیسی یہی بتاتی ہے کہ حکومت مقامی حکومتوں اور علاقوں کو ایسے اقدامات میں مدد دے رہی ہے جو ایک طرف سیاحوں کو سنبھالیں اور دوسری طرف رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو محفوظ رکھیں۔ کاغذ پر یہ حکمتِ عملی متوازن لگتی ہے، مگر زمینی سطح پر اس کا مطلب کہیں گلیاں بند کرنا ہے، کہیں فیسٹیول منسوخ کرنا، کہیں گارڈ بٹھانا، اور کہیں داخلی پابندیاں لگانا۔
اصل کشمکش یہی ہے۔ سیاحت معیشت کے لیے اچھی ہے، کاروبار بڑھاتی ہے، روزگار پیدا کرتی ہے، مگر جب یہی سیاحت محلوں کو شور، ٹریفک، کچرے اور نجی زندگی میں مداخلت میں بدل دے تو مقامی لوگوں کا صبر جواب دینا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جاپان کی موجودہ مہم کو محض “سیاحوں کے خلاف ردعمل” کہنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل اس سوچ کے خلاف ردعمل ہے کہ سیاح ہونا ہر حد پار کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔
