مالی کے وزیرِ دفاع جنرل سادیو کامارا ملک بھر میں ہونے والے مربوط حملوں کے دوران مارے گئے، جس سے فوجی حکومت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتے کے روز شدت پسندوں اور باغی گروہوں نے مختلف فوجی تنصیبات، قصبوں اور اہم مقامات کو نشانہ بنایا، اور اسی حملہ آور سلسلے میں کامارا کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔
یہ حملے مالی کے جاری سکیورٹی بحران میں ایک خطرناک نئی شدت سمجھے جا رہے ہیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد شمالی شہر کدال سے مالی فوج اور روسی جنگجوؤں کے انخلا کی بھی خبر آئی، جبکہ اس کارروائی نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ مختلف مسلح گروہ اب پہلے سے زیادہ ہم آہنگ انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسے 2012 کے بعد سب سے بڑی مربوط عسکری یلغار قرار دیا۔
البتہ کامارا کی ہلاکت کی درست جگہ اور ترتیب کے بارے میں ابتدائی رپورٹنگ میں کچھ فرق موجود ہے۔ اے پی اسے وسیع حملہ آور مہم کا حصہ بتاتی ہے، جبکہ دیگر ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا کہ وہ باماکو کے قریب فوجی مرکز کاتی میں نشانہ بنے۔ اس لیے ان کی موت کی خبر وسیع پیمانے پر رپورٹ ہو چکی ہے، مگر بعض تفصیلات ابھی بھی واضح ہو رہی ہیں۔
کامارا مالی کی عبوری فوجی حکومت میں ایک نہایت بااثر شخصیت تھے۔ وہ موجودہ اقتدار کے فوجی ڈھانچے کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے، اس لیے ان کی ہلاکت صرف ایک عسکری نقصان نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی بڑا دھچکا مانی جا رہی ہے۔ موجودہ حالات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ مالی کی فوجی قیادت، روسی حمایت اور سخت سکیورٹی بیانیے کے باوجود، ملک پر مکمل کنٹرول قائم رکھنے میں بدستور مشکلات کا شکار ہے۔
اب اس واقعے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ باماکو میں فوجی حکومت کس طرح ردعمل دیتی ہے، اور آیا یہ حملے مالی میں طاقت کے توازن کو مزید بدل دیتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ وزیرِ دفاع کی ہلاکت نے یہ دکھا دیا ہے کہ ملک کی سکیورٹی صورتِ حال پہلے سے کہیں زیادہ نازک ہو چکی ہے۔
