اسلام آباد، 25 اپریل: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ہفتے کے روز وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی، جبکہ اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے آمد و رفت محدود کر دی گئی۔
حکام کے مطابق وفد کی آمد کے پیشِ نظر ریڈ زون اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ کئی داخلی راستوں پر ناکے قائم کیے گئے، جبکہ بعض سڑکوں کو مکمل یا جزوی طور پر بند رکھا گیا تاکہ سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ شہر کے مختلف حصوں سے آنے والے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کرنے والے تھے۔ سرکاری سطح پر کہا گیا کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔
اسلام آباد میں اس دورے کو محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں سمجھا جا رہا۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی، سفارتی رابطے اور پسِ پردہ مشاورت تیز ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی حکام نے سکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دی، خاص طور پر ریڈ زون جیسے حساس علاقے میں جہاں اہم سرکاری عمارتیں، سفارتی دفاتر اور ریاستی ادارے واقع ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ریڈ زون کے اطراف خار دار رکاوٹیں، اضافی چیک پوسٹس اور اہلکاروں کی گشت معمول سے کہیں زیادہ دکھائی دی۔ بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جس کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تاہم انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ اقدامات غیر ملکی وفد کی حفاظت اور مجموعی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھے۔
حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہنے کے متعدد مواقع سامنے آئے ہیں، لیکن ایرانی وفد کی آمد کے موقع پر کیے گئے انتظامات نے واضح کر دیا کہ پاکستان اس دورے کو علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں خاص اہمیت دے رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک جانب اہم علاقائی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھایا جائے، اور دوسری جانب بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں اپنا سفارتی کردار بھی مؤثر رکھا جائے۔
دن کے اختتام تک اسلام آباد کا ریڈ زون ایک بار پھر سخت نگرانی میں دکھائی دیا، اور یہ تاثر نمایاں رہا کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ صرف دوطرفہ ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی سیاست سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
