تہران کی سڑکیں آج سوگواروں سے اٹی ہوئی ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بعد شروع ہونے والے جنازے کے جلوسوں نے دارالحکومت کو مفلوج کر دیا ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔
اقتدار کی منتقلی کا عمل تاحال غیر واضح ہے، اور یہ عوامی اجتماع حکومت کی بقا کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ حکومت نے ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے، لیکن سڑکوں پر موجود یہ ہجوم اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ ملک اس وقت دکھ اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
اصفہان سے آنے والے ایک یونیورسٹی طالب علم نے سکیورٹی حصار کے قریب کھڑے ہو کر کہا، "ہم یہاں اس لیے ہیں کیونکہ نظام کا تقاضا ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔” اس کی نظریں جنازے سے زیادہ آس پاس کی عمارتوں کی چھتوں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں پر تھیں۔
سرکاری میڈیا مسلسل جلوس کے مناظر نشر کر رہا ہے، جس میں قومی اتحاد اور عزم کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق مختلف ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد دوگنی کر دی گئی ہے، اور ملک کے کئی صوبوں میں انٹرنیٹ سروسز کو محدود کیا گیا ہے — یہ ایک ایسا ہتھکنڈہ ہے جسے ایران ماضی میں عوامی بے چینی کے دوران استعمال کرتا رہا ہے۔
اس قتل نے خطے میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جانشین کے نام کا باضابطہ اعلان نہ ہونے کے باعث ماہرین کی کونسل پر دباؤ ہے کہ وہ اس بحرانی کیفیت میں نئے رہنما کا انتخاب کرے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ جنازہ ماضی کو خراجِ تحسین پیش کرنے سے زیادہ حکومت کی جانب سے اپنی طاقت کے مظاہرے کا ایک ذریعہ ہے۔
دارالحکومت اس وقت ایک بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ جہاں ریاست ایک متحد قوم کا بیانیہ پیش کر رہی ہے، وہیں پاسدارانِ انقلاب کی بھاری موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکمران طبقے کو دکھ سے زیادہ اپنے اقتدار کے تحفظ کی فکر ہے۔
جلوس آج رات شہر کے مرکز کی جانب بڑھے گا۔ یہ دن ایک کنٹرولڈ منتقلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا یا ملک میں کسی بڑی تبدیلی کی شروعات، یہ وہ سوال ہے جو ہر شہری کے ذہن میں ہے، اگرچہ اسے زبان پر لانے کی ہمت کوئی نہیں کر رہا۔
