متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی حکومت کو واضح الٹی میٹم دے دیا ہے: اگر 2022 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ طے پانے والے پاور شیئرنگ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو پارٹی ملک گیر احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔
کراچی میں منگل کی شب منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد پارٹی قیادت نے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت بلدیاتی اختیارات، شہری سندھ میں انتظامی اصلاحات اور مردم شماری کے نتائج کے مطابق وسائل کی تقسیم کے کلیدی نکات پر اپنے کیے گئے وعدوں سے مکر رہی ہے۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم کوئی احسان نہیں مانگ رہے، صرف وہ مطالبات پورے کروانا چاہتے ہیں جن پر دستخط ہوئے تھے۔ وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ ہمارے شہری مراکز انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔”
یہ معاہدہ 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے قیام کے وقت طے پایا تھا، جس کا مقصد کراچی اور حیدرآباد میں انتظامی خودمختاری کے بدلے ایم کیو ایم کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ دو برس گزرنے کے بعد پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف کاغذ تک محدود ہے۔ خاص طور پر بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات کی منتقلی کا معاملہ دونوں اتحادیوں کے درمیان مسلسل تناؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی، جو صوبائی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم کے مطالبات—خاص طور پر انتظامی کنٹرول کے حوالے سے—صوبائی خودمختاری کے منافی ہیں۔
سیاسی منظرنامے پر اس دھمکی کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایم کیو ایم حکومت سے حمایت واپس لینے یا سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو موجودہ وفاقی سیٹ اپ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
فی الحال ایم کیو ایم نے احتجاج کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اسلام آباد کی جانب سے کسی ٹھوس جواب کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر خاموشی کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ کراچی کی سڑکیں ہی ان کے اگلے مذاکرات کا مرکز ہوں گی۔
