بحیرہ روم میں بننے والے ایک نایاب طوفان جسے میڈی کین کہا جاتا ہے اور جس کا نام جولینا رکھا گیا تھا، نے مارچ 2026 میں شمالی افریقہ کے مختلف علاقوں میں شدید نقصان پہنچایا۔
یہ طوفان بحیرہ روم کے پانیوں سے پیدا ہوا اور تیز بارش، طاقتور ہواؤں اور سیلاب کا باعث بنا، جس سے متاثرہ علاقوں میں نظامِ زندگی متاثر ہوا۔
ماہرین کے مطابق میڈی کین وہ غیر معمولی طوفان ہوتے ہیں جو بظاہر سمندری طوفانوں جیسے ہوتے ہیں لیکن بحیرہ روم جیسے غیر اشنائی علاقوں میں بنتے ہیں۔ ان میں شدید بارش اور تیز ہوائیں شامل ہوتی ہیں جو وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے گرم ہونے کی وجہ سے ایسے طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ روم کے علاقے میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ساحلی انحصار کی وجہ سے ایسے طوفان زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا ہے کہ بہتر پیشگی وارننگ سسٹمز، جدید موسمی ماڈلز اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان آفات کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
