اسرائیل کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور سابق وزیر اعظم یائر لاپیڈ نے اتوار، 26 اپریل 2026 کو اعلان کیا کہ وہ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے خلاف مشترکہ طور پر حصہ لیں گے۔ دونوں رہنما اپنی جماعتوں کو ضم کر کے ایک نیا اتحاد بنا رہے ہیں، اور اس اتحاد کی قیادت بینیٹ کریں گے۔
یہ اتحاد اس لیے بھی غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے کہ بینیٹ اور لاپیڈ سیاسی طور پر ایک ہی دھارے سے تعلق نہیں رکھتے۔ بینیٹ کو عموماً دائیں بازو اور قوم پرست سیاست کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لاپیڈ خود کو زیادہ تر ایک اعتدال پسند اور مرکزی دھارے کے رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود، دونوں پہلے بھی ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ 2021 میں انہی دونوں نے ایک ایسی مخلوط حکومت بنائی تھی جس نے کچھ عرصے کے لیے نتن یاہو کے طویل اقتدار کا سلسلہ توڑ دیا تھا۔
نئے اتحاد کا بنیادی مقصد بکھری ہوئی اپوزیشن کو ایک واضح سیاسی پلیٹ فارم دینا ہے۔ اعلان کے وقت اس شراکت داری کو “مرکز اور دائیں بازو” کے اشتراک کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسرائیلی سیاست میں اپوزیشن کی ایک بڑی کمزوری یہی رہی ہے کہ نتن یاہو کے مخالف ووٹ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بینیٹ اور لاپیڈ کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ اس تقسیم کو کم کیا جائے اور ایک ایسا انتخابی ڈھانچہ سامنے لایا جائے جو براہِ راست نتن یاہو کو چیلنج کر سکے۔
بینیٹ نے اس موقع پر ایک اور اہم سیاسی وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا اتحاد اقتدار میں آیا تو وہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بارے میں فوری طور پر ایک ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کریں گے۔ یہ معاملہ اب بھی اسرائیلی سیاست میں بہت حساس ہے، کیونکہ اس حملے کے بعد حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور نتن یاہو کی قیادت پر تنقید بھی اسی تناظر میں جاری ہے۔
اس اعلان کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق نتن یاہو کی حکومت کو جنگی اہداف، عوامی اعتماد اور مجموعی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں حماس، حزب اللہ اور ایران سے متعلق تنازعات کے بعد حکومت کے دعووں اور زمینی نتائج کے درمیان فرق پر عوامی بے چینی بڑھی ہے، اور یہی صورت حال اپوزیشن کو یہ امید دے رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں نتن یاہو کو سخت مقابلہ درپیش ہو سکتا ہے۔
آئندہ اسرائیلی انتخابات کی طے شدہ آخری تاریخ 27 اکتوبر 2026 ہے، اگرچہ اسرائیلی سیاست کی روایت کو دیکھتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت تک اگر موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو اسرائیلی ووٹرز ایک ایسے انتخابی معرکے کی طرف بڑھیں گے جسے بہت سے مبصرین نتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر ریفرنڈم کی حیثیت دے رہے ہیں۔ بینیٹ اور لاپیڈ کا نیا اتحاد اسی بڑے مقابلے کی ابتدائی اور شاید سب سے اہم چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ اتحاد واقعی نتن یاہو کو اقتدار سے باہر کر سکے گا یا نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اپوزیشن کو پہلی بار ایک نسبتاً واضح شکل ملی ہے: ایک معروف قیادت، مشترکہ انتخابی ہدف، اور ایسا بیانیہ جو کہتا ہے کہ اسرائیل کو ایک نئی سیاسی سمت درکار ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہی دیکھا جائے گا کہ کیا یہ اتحاد صرف ایک انتخابی اعلان ثابت ہوتا ہے یا پھر واقعی اسرائیلی سیاست کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
