برلن، 27 اپریل 2026 — جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکا کو “ذلیل” کر رہا ہے، کیونکہ امریکی حکام مذاکرات کے لیے سفر کرتے ہیں لیکن بات چیت کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو جاتی ہے۔ رائٹرز پر مبنی موجودہ رپورٹنگ کے مطابق مرز نے کہا کہ ایرانی قیادت امریکی حکام کو پاکستان بلاتی ہے اور پھر بغیر پیش رفت کے واپس بھیج دیتی ہے، جو ان کی جانب سے ایک غیر معمولی طور پر سخت بیان سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی پہلے ہی زیادہ ہے۔ مرز کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب بے چینی صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپی دارالحکومتوں میں بھی مذاکراتی عمل کے بارے میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ یہ نتیجہ رپورٹوں کے لہجے اور بیان کردہ نکات سے اخذ کیا گیا ہے۔
حالیہ رپورٹوں کے مطابق مرز نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بامعنی مذاکرات میں واپس آئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران سنجیدگی سے بات چیت کرے تو یورپی ممالک بتدریج پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مرز نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو گیا تو فوجی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس معاملے کا اہم پہلو صرف مذاکرات کا تعطل نہیں بلکہ مرز کی زبان بھی ہے۔ انہوں نے صرف بات چیت کی اپیل نہیں کی بلکہ ایران کے رویے کو امریکا کی توہین اور سبکی کے طور پر پیش کیا۔ ایسی سخت لفظی پوزیشن عام طور پر سفارتی ماحول کو نرم کرنے کے بجائے مزید سخت بنا سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب مذاکرات پہلے ہی کمزور پڑ چکے ہوں۔ یہ تجزیہ دستیاب رپورٹوں کی بنیاد پر ہے۔
فی الحال برلن کا پیغام خاصا واضح دکھائی دیتا ہے: یورپ اب بھی سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن صبر کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مذاکرات اسی طرح رکے رہے تو ایران پر دباؤ بڑھنے کا امکان زیادہ ہے، اگرچہ کچھ یورپی اشارے اب بھی یہ بتاتے ہیں کہ حقیقی پیش رفت کی صورت میں پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ آئندہ منظرنامہ مرز کے بیان کردہ مؤقف سے اخذ کیا گیا ہے
