اشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک تہران اپنی تجاویز پیش نہیں کرتا، لیکن تازہ رپورٹس بتا رہی ہیں کہ یہ مہلت غیر یقینی ہے اور اگر بات چیت آگے نہ بڑھی تو یہ وقفہ جلد ختم بھی ہوسکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونا تھی، جبکہ دونوں طرف سے یہ اشارے بھی مل رہے تھے کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو لڑائی دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان نے وقتی طور پر سفارتی عمل کو کچھ سانس دی ہے۔ سی بی ایس کی تازہ کوریج کے مطابق انہوں نے اشارہ دیا کہ جنگ بندی بات چیت مکمل ہونے تک چل سکتی ہے، مگر اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے پاکستان میں وفد بھیجے گا یا نہیں۔
اصل مسئلہ اب یہی ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران صرف وقت نہ لے بلکہ باقاعدہ تجاویز سامنے لائے، جبکہ ایرانی مؤقف یہ دکھائی دیتا ہے کہ دباؤ کے ماحول میں مذاکرات قابلِ قبول نہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ایران نے اب تک نئی بات چیت میں شرکت کی واضح تصدیق نہیں کی، جس کے باعث پورا سفارتی عمل معلق سا محسوس ہو رہا ہے۔
اس پورے معاملے میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان ایک اور دور کی ممکنہ بات چیت کے لیے ماحول بنانے کی کوشش کی، اور یہی وجہ ہے کہ ceasefire کے ختم ہونے سے پہلے پاکستان کا نام مسلسل سفارتی سرگرمیوں کے مرکز میں رہا۔
تاہم صورتِ حال کسی واضح معاہدے سے ابھی کافی دور ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگ بندی کی آخری گھڑیوں میں مذاکرات خود غیر یقینی کا شکار تھے، جبکہ دوسری کوریج میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر ایران شریک نہ ہوا تو وقفہ ختم ہونے کے بعد کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا حالیہ بیان بیک وقت امید اور دباؤ، دونوں کا پیغام دیتا ہے۔ ایک طرف وہ جنگ بندی کو کچھ دیر اور جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں، دوسری طرف ان کا مؤقف صاف ہے کہ اب واشنگٹن کو تہران کی جانب سے ٹھوس تجاویز درکار ہیں۔ اگلا مرحلہ غالباً اسی بات پر منحصر ہوگا کہ ایران مذاکراتی خاکہ پیش کرتا ہے یا ایک بار پھر ہچکچاہٹ دکھاتا ہے۔
