واشنگٹن: یونائیٹڈ ہیلتھ نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ میڈیکیئر موٹاپا دوا پائلٹ کو “اہم چیلنجز” درپیش ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اگر بڑے انشوررز نے بھرپور حصہ نہ لیا تو کیا یہ پروگرام منصوبے کے مطابق آگے بڑھ سکے گا۔ حالیہ کاروباری رپورٹوں کے مطابق اس ماڈل کی کامیابی بڑی حد تک ان میڈیکیئر ڈرگ پلانز کی شمولیت پر منحصر ہے جو پارٹ ڈی کے زیادہ تر صارفین کا احاطہ کرتے ہیں۔
سی ایم ایس کے جاری کردہ فریم ورک کے مطابق طویل المدت BALANCE Model کا آغاز جنوری 2027 میں میڈیکیئر پارٹ ڈی کے تحت ہونا ہے، جبکہ اس سے پہلے ایک عارضی پروگرام Medicare GLP-1 Bridge کے نام سے جولائی 2026 میں شروع کیا جانا ہے تاکہ اہل مستفیدین کو ابتدائی رسائی دی جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایک جیسے پروگرام نہیں ہیں۔ سی ایم ایس نے واضح کیا ہے کہ GLP-1 Bridge عام پارٹ ڈی کوریج اور ادائیگی کے نظام سے باہر چلایا جائے گا، اس لیے اس مختصر مدتی مرحلے میں پارٹ ڈی اسپانسرز براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔ اسی وجہ سے انشوررز کی شمولیت کا اصل مسئلہ زیادہ تر 2027 میں شروع ہونے والے BALANCE ماڈل سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ ابتدائی برج مرحلے سے۔
یونائیٹڈ ہیلتھ کے تحفظات نے مارکیٹ میں بھی ردِعمل پیدا کیا۔ رپورٹس کے مطابق موٹاپا کم کرنے والی ادویات بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز دباؤ میں آئے، کیونکہ سرمایہ کار میڈیکیئر کوریج کو ویگووی اور زیپ باؤنڈ جیسی GLP-1 ادویات کے لیے ایک بڑے کاروباری موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔
کچھ مزاحمت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ مارکیٹ واچ کی رپورٹ کے مطابق CVS Health اس پروگرام سے الگ رہنے کا فیصلہ کر چکی ہے، جبکہ یونائیٹڈ ہیلتھ اب بھی اس کے ڈھانچے کا جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ تبدیلیوں پر میڈیکیئر حکام سے بات کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ منصوبہ ختم ہو گیا ہے، مگر اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو زیادہ وسیع انشورر شمولیت کے لیے ماڈل میں ردوبدل کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس پورے معاملے کے پیچھے بنیادی سوال لاگت کا ہے۔ GLP-1 ادویات مہنگی ہیں، اور اگر انہیں بڑے پیمانے پر میڈیکیئر میں شامل کیا جاتا ہے تو وفاقی اخراجات نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے پالیسی سازوں کے لیے یہ توازن مشکل بنا ہوا ہے کہ ایک طرف مریضوں کو رسائی دی جائے اور دوسری طرف سرکاری لاگت قابو میں رہے۔
اب تک کی صورتِ حال یہ بتاتی ہے کہ قلیل مدتی برج پروگرام تو نسبتاً الگ راستے سے چل سکتا ہے، لیکن اصل اور زیادہ بڑا میڈیکیئر موٹاپا دوا ماڈل تبھی کامیاب ہوگا جب بڑے انشوررز اس میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں۔ یونائیٹڈ ہیلتھ کا انتباہ اسی بڑی مشکل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
