پاکستان میں 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی، جبکہ مہم کا ہدف 5 سال سے کم عمر 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں تک پہنچنا تھا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) کے مطابق ملک بھر میں یہ مہم کامیابی سے مکمل ہوئی۔
اس مہم کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان اب بھی دنیا کے اُن دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا؛ دوسرا ملک افغانستان ہے۔ اسی وجہ سے حکام بار بار گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانے والی مہمات چلاتے ہیں تاکہ کوئی بچہ رہ نہ جائے اور وائرس کی منتقلی کا سلسلہ ٹوٹ سکے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے منسلک معلومات کے مطابق فروری 2026 کی اس قومی مہم میں تقریباً 4 لاکھ تربیت یافتہ پولیو ورکرز نے حصہ لیا۔ ان ٹیموں نے 2 سے 8 فروری کے دوران ملک کے مختلف شہروں، دیہی علاقوں اور مشکل رسائی والے مقامات پر جا کر بچوں کو ویکسین دی۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے مہم کی تکمیل پر صحت اہلکاروں، رضاکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں بھی بچوں تک رسائی یقینی بنائی۔ سرکاری اندازِ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ انسدادِ پولیو مہم صرف ایک طبی سرگرمی نہیں بلکہ قومی سطح کی مربوط کوشش ہے، جس میں انتظامی مشینری، مقامی عملہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب شریک ہوتے ہیں۔
تاہم یہ کامیابی ایک مشکل پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں پولیو مہمات کو برسوں سے سیکیورٹی خطرات، غلط معلومات اور بعض علاقوں میں بداعتمادی کا سامنا رہا ہے۔ تازہ ترین مثال اپریل 2026 میں سامنے آئی، جب ملک گیر پولیو مہم کے آغاز کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار حملے میں مارا گیا اور کئی دوسرے زخمی ہوئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 کی دہائی سے اب تک 200 سے زائد پولیو ورکرز اور ان کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی مہم میں طبی تیاری کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی انتظامات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
حکام نے حالیہ پیش رفت کو کچھ حد تک حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ اپریل 2026 میں جاری مہم کے موقع پر فرسٹ لیڈی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ 2026 میں اب تک پاکستان میں پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 31 تھی۔ یہ کمی امید ضرور دلاتی ہے، مگر ماہرین کے نزدیک اسے حتمی کامیابی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وائرس کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مکمل کوریج ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی جنگ صرف ویکسین فراہم کرنے کا معاملہ نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ہر مہم میں ہر بچے تک پہنچا جائے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں سیکیورٹی، جغرافیہ یا سماجی رکاوٹیں راستہ روک لیتی ہیں۔ اسی لیے 4 کروڑ 43 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے کا یہ ہندسہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ اُس طویل جدوجہد کا اشارہ ہے جو ملک پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔
