یہ سرخی سخت محسوس ہو سکتی ہے، مگر حالیہ رپورٹنگ اسے محض جذباتی جملہ نہیں رہنے دیتی۔ غزہ اور لبنان دونوں میں ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جن میں میڈکس، پیرا میڈکس، ایمبولینس عملہ اور ریسکیو ورکرز اس وقت اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے جب وہ زخمیوں کو بچانے یا منتقل کرنے پہنچے تھے۔ خاص طور پر لبنان کے شہر میفدون میں اپریل 2026 کے حملے نے اس بحث کو اور تیز کر دیا، جہاں مسلسل تین حملوں میں چار امدادی کارکن مارے گئے اور چھ زخمی ہوئے۔
اس پوری بحث کی سب سے نمایاں مثال 23 مارچ 2025 کا وہ واقعہ ہے جس میں رفح کے علاقے میں 15 فلسطینی امدادی کارکن مارے گئے۔ الجزیرہ کی فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے واضح نشان والی امدادی گاڑیوں اور ایمبولینسوں پر 900 سے زیادہ گولیاں چلائیں، اور بعض زندہ بچ جانے والوں کو قریب سے مارے جانے کا بھی الزام سامنے آیا۔ اس واقعے نے اس لیے شدید ردِعمل پیدا کیا کیونکہ مرنے والوں میں فلسطین ریڈ کریسنٹ، سول ڈیفنس اور اقوام متحدہ سے وابستہ اہلکار شامل تھے، یعنی وہ لوگ جو لڑنے نہیں بلکہ جان بچانے گئے تھے۔
لبنان میں بھی حالیہ حملوں نے یہی سوال دوبارہ کھڑا کیا ہے کہ آیا امدادی کارکن خود ہدف بن رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 15 اپریل 2026 کو جنوبی لبنان کے میفدون میں ایک ٹیم زخمیوں کی مدد کے لیے پہنچی، پھر دوسری ٹیم آئی، اور اس کے بعد مزید حملے ہوئے۔ اسی لیے کچھ مبصرین نے اسے “ڈبل ٹیپ” یا “کواڈروپل ٹیپ” جیسا طرزِ حملہ قرار دیا، یعنی پہلا حملہ، پھر مدد کے لیے آنے والوں پر بعد کے حملے۔ گارڈین نے بھی اسی واقعے کو اسی تناظر میں رپورٹ کیا۔
اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو اور واضح کرتے ہیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں 2 مارچ 2026 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے کم از کم 91 طبی اور امدادی کارکن مارے جا چکے تھے، جبکہ گارڈین نے زخمیوں کی تعداد 214 بتائی۔ یہ صرف انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی تصویر ہے جس میں ہسپتال، ایمبولینسیں اور طبی عملہ جنگی خطرے کے دائرے سے باہر نہیں رہے۔
اسرائیل عام طور پر یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ حزب اللہ یا دیگر مسلح گروہ بعض اوقات ایمبولینسوں یا طبی ڈھانچے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مگر حالیہ لبنان والے معاملے میں اے پی نے واضح لکھا کہ اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حق میں عوامی طور پر ثبوت پیش نہیں کیے، اور صرف یہ کہا کہ وہ واقعے کو “دیکھ رہی ہے”۔ یہی فرق — یعنی الزام ایک طرف اور عوامی ثبوت کی کمی دوسری طرف — اس معاملے کو قانونی اور اخلاقی سطح پر مزید متنازع بنا دیتا ہے۔
اسی لیے یہ خبر محض اس بارے میں نہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ لوگ بھی محفوظ نہ رہیں جو زخمیوں کو اٹھانے، مرہم رکھنے، اور ملبے سے نکالنے آتے ہیں، تو پھر جنگی علاقے میں انسانیت کا آخری سہارا کیا رہ جاتا ہے۔ حالیہ کیسز ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں: زندگی بچانے کا عمل خود زندگی کے لیے مہلک بنتا جا رہا ہے۔
