جھلم میں قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر حملے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ لیکچر کے اختتام پر اس وقت پیش آیا جب کچھ افراد مرزا کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آور تصویر بنوانے کے بہانے مرزا کے قریب آیا۔ مرزا کے وکیل نے کہا کہ اس شخص نے پہلے تصویر لینے کے لیے اپنا موبائل فون دیا اور پھر اچانک آگے بڑھ کر حملے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم غیر مسلح تھا، اس نے نعرے لگائے اور پھر مرزا کو دونوں ہاتھوں سے گلے سے پکڑنے کی کوشش کی۔
اکیڈمی میں موجود افراد نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ آور کو قابو کر لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں سٹی پولیس اسٹیشن جھلم میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بعض رپورٹس میں ملزم کو ایبٹ آباد کا رہائشی بتایا گیا ہے، تاہم اس کے دیگر ممکنہ روابط سے متعلق دعوؤں پر سرکاری سطح پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ واقعہ انجینئر محمد علی مرزا کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر بڑھا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اس سے پہلے بھی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں 2021 میں چاقو سے حملہ اور اس سے قبل ایک اور حملے کی کوشش شامل ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا اپنے غیر روایتی مذہبی مؤقف اور عوامی سوال و جواب کی نشستوں کے باعث خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ تازہ واقعے کے بعد ان کے حامیوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
