عالمی شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے سے پہلے حفاظتی اقدامات اور صورتحال کے بارے میں واضح ہدایات مانگ رہی ہیں، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سمندری سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کئی شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکر آپریٹرز نے متعلقہ حکام اور نیول فورسز سے محفوظ راستے کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ عالمی توانائی مارکیٹ اور شپنگ نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
شپنگ کمپنیوں کو خاص طور پر انشورنس، عملے کی حفاظت، تاخیر اور ممکنہ حملوں یا جہازوں کی ضبطگی جیسے خطرات لاحق ہیں۔ بعض کمپنیاں متبادل راستوں پر غور کر رہی ہیں یا صورتحال واضح ہونے تک ترسیل مؤخر کرنے پر بھی سوچ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کمپنیاں سمندری سیکیورٹی اداروں اور حکومتوں کی ہدایات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ انشورنس کمپنیاں بھی حالات کے مطابق وار رسک پریمیم میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
اگرچہ ابھی تک جہاز رانی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں معمولی رکاوٹ بھی تیل کی قیمتوں اور عالمی شپنگ اخراجات میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔
