امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اپریل 2026 کو سوشل میڈیا اور عوامی بیانات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران کے ساتھ جنگ اب تقریباً اختتام کے قریب ہے۔ ان کے اس خوش امید مؤقف کی بنیاد سب سے زیادہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر تھی، جسے انہوں نے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کیا۔ اسی اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں فوری ردِعمل آیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید سفارتی راستہ دوبارہ کھل رہا ہے۔
ٹرمپ کا بیانیہ کافی سیدھا تھا: اگر آبنائے ہرمز کھل گئی ہے، تو دباؤ کی پالیسی کام کر رہی ہے اور شاید اب معاہدہ زیادہ دور نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی وقت ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی جب تک تہران کے ساتھ ایک وسیع معاہدہ طے نہیں ہو جاتا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے بنیادی معاملات بھی شامل ہیں۔ یعنی ایک طرف وہ حالات کو تقریباً قابو میں دکھا رہے تھے، اور دوسری طرف جنگ کے سب سے سخت دباؤ والے اوزار کو برقرار رکھنے کا اعلان بھی کر رہے تھے۔
یہی تضاد اس پوری خبر کا اصل نکتہ ہے۔ ٹرمپ کی پوسٹس اور بیانات سے ایک کامیاب اختتامی مرحلے کا تاثر ملتا ہے، مگر حقیقت میں کشیدگی کی بنیادی ساخت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود جہازوں کی آمدورفت مکمل معمول پر نہیں آئی بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ ایرانی ہم آہنگی والے مخصوص راستوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندری گزرگاہ کھلنے کے باوجود علاقائی صورت حال اب بھی غیر معمولی نگرانی اور دباؤ کے ماحول میں ہے۔
امن یا جنگ بندی کی بات کو مشکل بنانے والی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اصل تنازعے ابھی حل نہیں ہوئے۔ ثالثی کی کوششیں بدستور جوہری سرگرمیوں، سمندری رسائی، اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے بنیادی معاملات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ عندیہ ضرور دیا کہ آئندہ دنوں میں مزید بات چیت ہو سکتی ہے، مگر ان کے بعض بڑے دعوے، خاص طور پر ایران کی ممکنہ رعایتوں سے متعلق، ایران یا ثالثوں کی جانب سے عوامی طور پر تصدیق شدہ نہیں تھے۔ اسی لیے خوش امیدی ضرور موجود ہے، لیکن اسے ٹھوس پیش رفت کہنا ابھی جلد بازی ہوگی۔
علاقائی پس منظر بھی اس خوش فہمی کو محدود کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحالی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی ابھی نئی نئی ہے، اور اس کے مستقل رہنے پر سوالات برقرار ہیں۔ ساتھ ہی یورپی رہنماؤں، خصوصاً ایمانوئل میکرون اور کیئر اسٹارمر نے آبنائے کے دوبارہ کھلنے کا خیر مقدم تو کیا، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ صرف وقتی بحالی کافی نہیں، مستقل بحری سلامتی کی ضرورت ہے۔ یہ ردِعمل خود بتاتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو مکمل امن نہیں بلکہ ایک نازک وقفہ سمجھا جا رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایک بہتر لمحے کو سیاسی طور پر بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل گئی، منڈیاں سنبھل گئیں، اور مذاکرات کی بات دوبارہ سنائی دینے لگی۔ مگر اس سب کے باوجود امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، اصل تنازعات برقرار ہیں، اور جنگ بندی کا ماحول بھی غیر یقینی ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے پاس ایک مثبت بیانیہ ضرور ہے، لیکن یہ کہنا کہ جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے، ابھی زمینی حقائق سے آگے کی بات معلوم ہوتی ہے۔
