کراچی میں بدھ کی صبح اچانک موسم نے کروٹ لی اور شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش کے بعد گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔
صدر، آئی آئی چندریگر روڈ، کلفٹن اور شاہراہِ فیصل سمیت شہر کے کئی حصوں میں بوندا باندی ہوئی۔ بارش کی شدت تو کم رہی لیکن اس کا اثر فوری طور پر محسوس کیا گیا۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی سست پڑ گئی، جبکہ بادلوں نے کئی ہفتوں سے جاری حبس کو ختم کر کے شہریوں کو ایک نادر سکون فراہم کیا۔
شہریوں کے لیے یہ تبدیلی صرف گرمی سے نجات کا نام نہیں۔ شہر کا نکاسی آب کا نظام—جو پہلے ہی خستہ حالی کا شکار ہے—معمولی بارش کو بھی بڑے ٹریفک مسائل میں بدل دیتا ہے۔ کورنگی کاز وے اور یونیورسٹی روڈ کے قریب سے گزرنے والے مسافروں نے معمول سے زیادہ تاخیر کی شکایات کیں، جہاں ہلکی بارش کے دوران بھی سڑکوں کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے کے آغاز میں مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا، مگر درجہ حرارت میں اتنی تیزی سے کمی کی توقع کم ہی تھی۔ توقع ہے کہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے کافی کم رہے گا، جبکہ سمندری ہوائیں ہوا میں خنکی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
موسم خوشگوار ہونے کے باوجود شہر کا بجلی فراہم کرنے والا ادارہ، کے-الیکٹرک، ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہلکی بارش بھی اکثر علاقوں میں بجلی کی بندش کا سبب بنتی ہے۔ گلشنِ اقبال اور نارتھ ناظم آباد جیسے علاقوں کے رہائشی اب بھی بجلی کی فراہمی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ کہیں بارش کے نام پر "احتیاطی” شٹ ڈاؤن کا سلسلہ شروع نہ ہو جائے۔
اگرچہ محکمہ موسمیات کے مطابق بادل آج رات تک چھٹ سکتے ہیں، لیکن اس مختصر وقفے نے شہر کا موڈ بدل دیا ہے۔ فی الحال حبس کم ہے، ہوا میں خنکی ہے، اور کراچی ایک پرسکون صبح کا لطف اٹھا رہا ہے۔
کیا شہر کا نکاسی آب کا نظام اور بجلی کا گرڈ مزید بارشوں کا بوجھ اٹھا پائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس شہر کے مکینوں کے ذہن میں اب بھی گردش کر رہا ہے۔
