بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ ‘ایل نینو’ کا رجحان واپس آ گیا ہے، جو دنیا بھر میں موسم کے معمولات کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو اگلے کئی ماہ تک فصلوں، توانائی کی کھپت اور قدرتی آفات کے انتظام کو براہ راست متاثر کرے گا۔
بحرالکاہل کا گرم پانی ایک بڑے انجن کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ فضا میں نمی کے بہاؤ کو بدل دیتا ہے، جس سے آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ امریکا اور لاطینی امریکا کے کچھ حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
زرعی شعبے کے لیے یہ صورتحال الارمنگ ہے۔ برازیل اور ارجنٹائن جیسے ممالک، جو دنیا کی اہم غذائی منڈیاں ہیں، وہاں غیر متوقع بارشیں فصلوں کو تباہ کر سکتی ہیں۔ دوسری طرف بھارت اور انڈونیشیا میں خشک سالی سے چاول اور گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر مہنگائی کی صورت میں عام آدمی کی جیب پر پڑیں گے۔
توانائی کے شعبے میں بھی ہلچل ہے۔ شدید گرمی کی لہروں کے باعث بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار گرڈز پر بوجھ بڑھے گا۔ یوٹیلیٹی کمپنیوں نے گرمیوں کے عروج کے مہینوں کے لیے ہنگامی پلان پر کام شروع کر دیا ہے، کیونکہ پرانے انفراسٹرکچر کے لیے اس اضافی بوجھ کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ "ہم ایسے موسمی حالات میں داخل ہو رہے ہیں جن کا پہلے تجربہ نہیں ہوا۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ایل نینو کا ملاپ ایک ایسا مرکب بنا رہا ہے جس کے نتائج کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔”
یہ رجحان صرف درجہ حرارت بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ سمندری طوفانوں کی شدت میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔ ساحلی علاقوں میں جہاں پہلے ہی سطح سمندر بلند ہونے کا مسئلہ درپیش ہے، وہاں اچانک آنے والے سیلاب سے نمٹنے کے لیے حکومتی ادارے الرٹ ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سال کے آخر تک ایل نینو اپنی شدت کے عروج پر ہوگا۔ اب سوال یہ نہیں کہ موسم بدلے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی حکومتیں اس بدلتے ہوئے موسم کے لیے تیار ہیں یا ایک بار پھر خاموش تماشائی بنی رہیں گی۔
