ایف آئی اے نے کسٹمز کے تین افسران کو 50 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کراچی میں کی گئی، جہاں انسدادِ بدعنوانی سرکل نے ایک تاجر کی شکایت پر چھاپہ مار کر ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑا۔
یہ گرفتاری ایک مقامی درآمد کنندہ کی جانب سے دی گئی درخواست پر عمل میں آئی۔ تاجر کا موقف تھا کہ کسٹمز افسران نے ان کی کنسائنمنٹ کو بغیر کسی قانونی جواز کے بندرگاہ پر روک رکھا تھا اور کلیئرنس کے عوض 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، ملزمان بندرگاہ پر تعینات انسپکٹرز ہیں جو طویل عرصے سے اس غیر قانونی عمل میں ملوث تھے۔ "افسران کو رشوت کی رقم وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا،” حکام نے تصدیق کی۔
ملزمان کو تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے زونل آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم اب اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا اس کرپشن نیٹ ورک میں کسٹمز کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے ملزمان کے موبائل فون ڈیٹا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران کلیئر کی گئی کنسائنمنٹس کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
ادھر کسٹمز حکام نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم محکمہ کے اندر ایک انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ بندرگاہ پر کام کرنے والے دیگر تاجروں کا کہنا ہے کہ "سپیڈ منی” کا کلچر یہاں معمول بن چکا ہے، جس کی وجہ سے قانونی درآمدات میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔
ملزمان کو کل مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔ ایف آئی اے کی ٹیمیں اب اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ اس ریکٹ کے ذریعے جمع کی گئی رقم کا سراغ لگایا جا سکے اور اس میں ملوث دیگر سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
