اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک بار پھر سیاسی بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ ان کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کو غیر مسلح کرنے کا نیا منصوبہ ہے، جس نے نیتن یاہو کو ایک مشکل دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن کی نئی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی مجبوری ہے، تو دوسری طرف اپنی دائیں بازو کی حکومت کو بچانے کا چیلنج۔
یہ منصوبہ بنیادی طور پر ایک سودے بازی پر مبنی ہے۔ غزہ کی مکمل غیر عسکریت پسندی کے بدلے ایک بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا پیکیج پیش کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے یہ غزہ کے موجودہ دلدل سے نکلنے کا ایک راستہ تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اگر وہ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق جنگ کو فوری ختم کرنے کی حامی بھرتے ہیں، تو ان کی اپنی کابینہ کے انتہا پسند وزراء حکومت گرانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
کنیست کے ایک قریبی تجزیہ کار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "وزیراعظم اس وقت ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں واشنگٹن کو یہ دکھانا ہے کہ وہ جنگ کے بعد کے نظام کے لیے ایک قابل اعتماد پارٹنر ہیں، لیکن وہ ان اتحادیوں کو ناراض نہیں کر سکتے جن کی حمایت ان کی کرسی کو تھامے ہوئے ہے۔”
تنازع کا اصل نقطہ "غیر عسکریت پسندی” کی تعریف ہے۔ نیتن یاہو کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اصرار ہے کہ غزہ پر طویل مدتی فوجی نگرانی برقرار رکھی جائے تاکہ حماس دوبارہ منظم نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس، ٹرمپ کا انداز عملی اور کاروباری ہے؛ وہ جلد از جلد خطے میں استحکام چاہتے ہیں تاکہ توجہ کہیں اور مرکوز کی جا سکے۔
اسرائیلی کابینہ کے اندر تقسیم گہری ہے۔ وزیر خزانہ بیزالل سموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی اتمار بین گویر کسی بھی ایسے سمجھوتے کو مسترد کر چکے ہیں جس میں بین الاقوامی نگرانی یا جنگ کے اہداف پر سمجھوتہ شامل ہو۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ حماس کے نظریے کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔
نیتن یاہو نے حسبِ روایت وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وہ عوامی سطح پر نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بیانات دے رہے ہیں، جبکہ نجی محفلوں میں اپنے وزراء کو یقین دلا رہے ہیں کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وہ اس امید پر ہیں کہ واشنگٹن میں اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ انہیں کچھ مزید وقت دے گا، جس کے دوران وہ موجودہ فوجی کارروائیوں کو جاری رکھ سکیں۔
تاہم، وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل کی فوجی امداد اور اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ نیتن یاہو اس "رسی پر چلنے” کے عمل میں کتنی دیر خود کو متوازن رکھ پاتے ہیں۔ اگر وہ ٹرمپ کے منصوبے کو ٹھکراتے ہیں، تو انہیں امریکا کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر وہ اسے قبول کرتے ہیں، تو ان کی اپنی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔
اسرائیلی عوام بھی اس وقت منقسم ہیں۔ یرغمالیوں کے خاندان کسی بھی قیمت پر معاہدے کے حق میں ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے حامی حلقے جنگ کے اصل اہداف کے حصول تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ نیتن یاہو کا اگلا قدم نہ صرف غزہ کا مستقبل طے کرے گا، بلکہ یہ بھی فیصلہ کرے گا کہ ان کی حکومت سردیوں کے اس موسم میں قائم رہ پائے گی یا نہیں۔
