لاہور: احتساب عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی صاحبزادی رابعہ عمران اور ان کے شوہر علی عمران کے خلاف جاری ریڈ وارنٹ معطل کر دیے ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے سے جوڑے کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ دونوں گزشتہ کئی برسوں سے لندن میں مقیم ہیں اور طویل عرصے سے جاری ’صاف پانی‘ کرپشن کیس میں نامزد ہیں۔
احتساب عدالت کے جج علی رضا نے یہ حکم اس وقت جاری کیا جب دفاعی وکیل نے دلائل دیے کہ وارنٹ کا اجرا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ یہ پیش رفت قومی احتساب بیورو (نیب) اور شریف خاندان کے درمیان جاری قانونی کشمکش میں ایک اہم موڑ ہے۔
صاف پانی کیس کا محور پنجاب صاف پانی کمپنی کے منصوبے میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیاں ہیں۔ نیب کا الزام ہے کہ کروڑوں شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا یہ منصوبہ مالی بدعنوانی اور من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کی نذر ہو گیا۔
وزیراعظم کے داماد علی عمران پر منصوبے کے حصول کے عمل میں مداخلت کے الزامات ہیں۔ رابعہ عمران کا نام ان مالی لین دین کے حوالے سے سامنے آیا جنہیں تفتیش کاروں نے منصوبے کے فنڈز سے جوڑا تھا۔ دونوں میاں بیوی مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں تک یہ جوڑا برطانیہ میں مقیم رہا اور نیب کی جانب سے طلبی کے متعدد نوٹسز کے باوجود پیش نہیں ہوا۔ نیب نے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے بھی رجوع کیا تھا، جس کے نتیجے میں ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جس نے ان کی بیرونِ ملک نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا۔
وارنٹس کی معطلی شریف خاندان کے مقدمات کے قانونی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے بعد جوڑا جلد پاکستان واپسی کا ارادہ رکھتا ہے۔
اگرچہ ریڈ وارنٹ معطل ہو چکے ہیں، تاہم احتساب عدالت میں کرپشن ریفرنسز بدستور قائم ہیں۔ صاف پانی منصوبے پر قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹس کا خاتمہ اس مقدمے کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ ہے — اب یہ کیس سفارتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے نہیں، بلکہ لاہور کی عدالت میں لڑا جائے گا۔
