اٹک ریفائنری لمیٹڈ (ARL) نے خام تیل کی قلت اور تیار شدہ مصنوعات کے ذخائر حد سے بڑھ جانے کے باعث اپنے مرکزی ڈسٹلیشن یونٹ کو بند کر دیا ہے۔ بدھ کے روز سامنے آنے والی اس پیش رفت نے پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر میں جاری بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
یہ ریفائنری روزانہ تقریباً 53 ہزار بیرل خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور شمالی پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یونٹ کی بندش سے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ایندھن کی طلب میں تبدیلی متوقع ہے۔
بندش کی فوری وجہ سپلائی چین کا نظام درہم برہم ہونا ہے۔ ریفائنری کے حکام کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے تیار شدہ مصنوعات کو اٹھانے میں ناکامی کے باعث پلانٹ کے اسٹوریج ٹینک مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ جب ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو جائے تو ریفائنری کے پاس پیداوار روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔
صنعت کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’’نظام مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔ ریفائنریز کے پاس اب مزید پیداوار جاری رکھنے کے لیے گنجائش ہی باقی نہیں بچی۔‘‘
یہ معاملہ صرف ایک پلانٹ کی تکنیکی خرابی تک محدود نہیں، بلکہ یہ پیٹرولیم سیکٹر کے وسیع تر مالیاتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ریفائنریز سے ایندھن اٹھانے سے قاصر ہیں، جس کی بڑی وجہ ان کے پاس نقد رقم (لیکویڈیٹی) کا فقدان ہے۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں نے ان کمپنیوں کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ نہ تو مصنوعات اٹھا پا رہی ہیں اور نہ ہی واجبات ادا کرنے کے قابل ہیں۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شمالی علاقوں میں ایندھن کی قلت سے بچنے کے لیے متبادل سپلائی لائنز کو فعال کیا جا رہا ہے۔ تاہم لاجسٹکس کے ماہرین اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جنوبی ریفائنریز سے شمالی حصوں تک ایندھن کی منتقلی کے لیے درکار ٹینکرز اور ریل کا نظام اتنی جلدی متحرک کرنا ممکن نہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے صارفین کے لیے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اگر ریفائنری کا یہ یونٹ چند دنوں سے زیادہ بند رہا تو مقامی پیٹرول پمپس خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
اٹک ریفائنری نے تاحال یونٹ دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ جب تک ذخائر کا انبار ختم نہیں ہوتا اور ادائیگیوں کا نظام بحال نہیں ہوتا، ریفائنری کی یہ غیر اعلانیہ بندش پاکستان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو واضح کر رہی ہے۔
