اٹلی نے روس کے ساتھ سفارتی کشیدگی میں ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے 21 اپریل 2026 کو روم میں تعینات روسی سفیر الیکسی پیرامونوف کو طلب کر لیا، بعد ازاں اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدام روسی ٹی وی میزبان ولادیمیر سولوویوف کی جانب سے وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے خلاف لائیو پروگرام میں کی گئی توہین آمیز گفتگو کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا۔
اٹلی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ANSA کے مطابق سولوویوف نے اپنے پروگرام Polnyj Kontakt (Full Contact) میں میلونی کے لیے نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے، انہیں “فاشسٹ” اور “سرٹیفائیڈ احمق” کہا، اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے “غداری” کی ہے۔ پروگرام کے دوران اس نے اطالوی زبان میں بھی تحقیر آمیز انداز اپنایا، جسے روم نے محض ایک ٹی وی تکرار نہیں بلکہ اطالوی وزیرِاعظم کی توہین سمجھا۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ، جسے عام طور پر فارنیزینا کہا جاتا ہے، نے روسی سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس قدم سے اشارہ ملا کہ میلونی حکومت اس معاملے کو سنجیدہ سفارتی مسئلہ تصور کر رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ سولوویوف کو کریملن کے قریب سمجھا جاتا ہے اور وہ روسی ریاستی بیانیے سے جڑا ہوا چہرہ مانا جاتا ہے۔
معاملہ صرف حکومت تک محدود نہیں رہا۔ اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا نے بھی میلونی کے نام یکجہتی کا پیغام بھیجا اور صدارتی محل Quirinale کے مطابق انہوں نے سولوویوف کے “فحش” اور “ناشائستہ” ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس ردِعمل نے واضح کیا کہ روم میں اس واقعے کو اندرونی سیاسی بحث نہیں بلکہ ریاستی وقار سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اٹلی اور روس کے تعلقات پہلے ہی سرد مہری کا شکار ہیں۔ جولائی 2025 میں بھی اٹلی نے روسی سفیر کو طلب کیا تھا، جب ماسکو نے صدر ماتاریلا، وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی اور وزیرِ دفاع گوئیڈو کروسیتّو سمیت اطالوی شخصیات کو مبینہ “Russophobes” کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس وقت میلونی نے روسی اقدام کو “پروپیگنڈا آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اٹلی نے یوکرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح فیصلہ کر رکھا ہے۔
اسی پس منظر میں موجودہ واقعہ زیادہ وزن رکھتا ہے۔ میلونی حکومت یوکرین کے لیے مسلسل سیاسی حمایت کا اظہار کرتی رہی ہے، جبکہ روس نواز میڈیا میں مغربی رہنماؤں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان پہلے سے زیادہ عام ہو چکی ہے۔ سولوویوف کی تازہ گفتگو کو روم میں اسی بڑے تناظر کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں میڈیا کی زبان اور ریاستی سیاست کے درمیان حدیں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ بات براہِ راست ثابت نہیں کہ یہ حملہ روسی ریاستی ہدایت پر تھا، لیکن اطالوی ردِعمل سے ظاہر ہے کہ روم اسے محض ایک اینکر کی ذاتی بدزبانی ماننے کو تیار نہیں۔
فی الحال اس بحران کا فوری نتیجہ سفارتی احتجاج کی صورت میں سامنے آیا ہے، لیکن اس نے اٹلی اور روس کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور تلخی ضرور شامل کر دی ہے۔ میلونی کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے: ایک طرف وہ اپنے حامیوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اٹلی اپنے وزیرِاعظم اور ریاستی وقار کے خلاف زبان درازی برداشت نہیں کرے گا، اور دوسری طرف ماسکو کو یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ ایسے حملے اب ٹی وی اسٹوڈیو کی حد تک محدود نہیں رہیں گے۔
