پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے ملک بھر کے بڑے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے فرسودہ اور بکھرے ہوئے نظام کو ختم کرکے ایک مرکزی کمانڈ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹرمینل آپریشنز میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ہٹا کر سیکیورٹی کو جدید اور مربوط بنانا ہے۔
سول ایوی ایشن نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب سیکیورٹی کے تمام امور ایک ہی کمانڈ کے ماتحت ہوں گے۔ ماضی میں پاکستان کے ایئرپورٹس پر سیکیورٹی کا نظام مقامی پولیس، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) اور دیگر صوبائی اداروں کے درمیان تقسیم تھا۔ اس تقسیم کے باعث اکثر دائرہ اختیار کے تنازعات پیدا ہوتے تھے اور رش کے اوقات میں اسکریننگ کے عمل میں تضاد سامنے آتا تھا۔
ایوی ایشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "ہمارا مقصد صرف سیکیورٹی کو بہتر بنانا نہیں بلکہ آپریشنل روانی لانا ہے۔ اب تک ایسے کئی واقعات دیکھے گئے جہاں گیٹ پر معمولی انتظامی رکاوٹ نے پورے رن وے کے شیڈول کو متاثر کیا۔”
نئے نظام کے تحت مسافروں کی تصدیق اور سامان کی جانچ پڑتال کے عمل کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے مصروف ترین ایئرپورٹس کو ایک ڈیٹا اسٹریم سے جوڑا جائے گا۔ حکام کو توقع ہے کہ اس انضمام سے موسم سرما کے دوران پروازوں کے رش کے وقت مسافروں کی جانچ پڑتال کے دورانیے میں تقریباً 30 فیصد کمی آئے گی۔
ماہرین طویل عرصے سے پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں ‘سائلوز’ (silos) یا الگ تھلگ کام کرنے والے اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا اصرار ہے کہ یہ اپ گریڈ بین الاقوامی سیکیورٹی آڈٹ اور سیفٹی معیارات کے لیے ضروری ہے، مگر کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اصل چیلنج تربیت کا ہے۔ سافٹ ویئر کی تنصیب ایک الگ مرحلہ ہے، لیکن ہزاروں گراؤنڈ اسٹاف کو دہائیوں پرانی دستی عادات ترک کروانا ایک کٹھن کام ہوگا۔
اس منصوبے کے لیے فنڈز ایوی ایشن کے جدید کاری بجٹ سے مختص کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے پر ابتدائی طور پر ان حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی تھی جو انتظامی انضمام کے بجائے رن وے کی مرمت کو ترجیح دیتے تھے، تاہم بین الاقوامی ایوی ایشن باڈیز کے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے اسے سیکیورٹی ریٹنگ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
عام مسافر کے لیے یہ تبدیلی بظاہر غیر محسوس ہوگی، جس کا مقصد سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر لگنے والی طویل قطاروں کو کم کرنا ہے۔ تاہم، اس ڈیجیٹل انضمام کا اصل امتحان تب ہوگا جب تعطیلات کے دوران مسافروں کا غیر معمولی رش ہوگا۔
فی الحال، دہائیوں پر محیط دستی نظام کی جگہ ایک مرکزی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے قیام کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس سے پاکستان کے ایئرپورٹس کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
