پاکستان میں بجلی کے صارفین کو اگست کے بلوں میں مزید بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جون کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں بجلی 75 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اضافہ ان صارفین کے لیے ہے جو ماہانہ 50 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے "لائف لائن” صارفین نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر بھی یہ اضافی چارجز لاگو نہیں ہوں گے۔ تقسیم کار کمپنیاں اگست کے بلوں میں یہ وصولیاں کریں گی، جس سے صارفین کی جیب پر بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون کے مہینے میں بجلی کی پیداواری لاگت کا تخمینہ اور اصل اخراجات میں فرق کے باعث یہ ایڈجسٹمنٹ کی گئی۔ اگرچہ جون میں پن بجلی اور جوہری توانائی جیسے سستے ذرائع سے کافی بجلی پیدا کی گئی، تاہم درآمدی کوئلے اور فرنس آئل کے مہنگے استعمال نے مجموعی لاگت کو بڑھا دیا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ ایک وقتی اضافہ ہے جو حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت لاگو کیے گئے بنیادی ٹیرف سے الگ ہے۔
صارفین کے لیے 75 پیسے فی یونٹ کا اضافہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس پر ٹیکسز اور دیگر سرچارجز لاگو ہوتے ہیں تو یہ بل کی حتمی رقم میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ حکومت سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضوں) کے خاتمے کے لیے ٹیرف ریشنلائزیشن پر زور دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔
توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مہنگائی کی موجودہ لہر کے بیچ، یہ اضافی بوجھ پہلے ہی سے دباؤ کا شکار متوسط طبقے کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔
