شہر کے بڑے مراکز میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران روٹی کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی توانائی کے بلوں کا بوجھ بھی عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔ نانبائیوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات نے انہیں قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایک عام خاندان کے لیے یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ روزمرہ کے بجٹ پر براہِ راست وار ہے۔ روٹی بنیادی غذا ہے، اور آمدنی میں جمود کے شکار طبقے کے لیے قیمتوں میں یہ تیزی کسی بحران سے کم نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب گھروں میں دیگر ضروریاتِ زندگی کے لیے رقم مزید کم پڑ رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر نچلے اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔
صنعتی علاقے میں بیکری چلانے والے طارق محمود نے بتایا کہ اگست سے اب تک آٹے کی بوری کی قیمت تین بار بڑھ چکی ہے۔ "ہمارے منافع کا مارجن پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے،” انہوں نے کہا۔ "اگر میں روٹی کی قیمت نہیں بڑھاتا تو دکان بند کرنی پڑے گی، اور اگر بڑھاتا ہوں تو وہ گاہک ہاتھ سے نکل جاتے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔”
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس عدم استحکام کی وجہ گندم کی خریداری کی ناقص پالیسیاں اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں۔ حکومتی سطح پر آٹے پر سبسڈی کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ ریلیف تاحال عام پرچون کی دکانوں تک نہیں پہنچ سکا۔ تقسیم کار کا نظام بکھرا ہوا ہے، جس کا خمیازہ آخری صارف کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
دکاندار دونوں طرف سے دباؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، روٹی کی طلب میں کمی تو نہیں آئی، لیکن گاہکوں نے مہنگی اور معیاری روٹی چھوڑ کر سستی اور کم معیار کی روٹی خریدنا شروع کر دی ہے۔ کھپت کا یہ رجحان بتاتا ہے کہ معاشی دباؤ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر سب کی نظریں ہیں۔ اگر گندم کی ترسیل کو بہتر نہ بنایا گیا اور سبسڈی کا نظام شفاف نہ ہوا، تو سال کے اختتام تک قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ فی الحال، ایک عام آدمی کے دسترخوان کی سب سے اہم ضرورت، اب ایک ایسی عیاشی بنتی جا رہی ہے جس کا بوجھ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔
