واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایک بار پھر کینیڈا کے امریکا کی 51ویں ریاست بننے سے متعلق اپنا متنازع مؤقف دہرایا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان میں کہا کہ کینیڈا ”ریاست بنے بغیر ریاست کے فوائد“ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بیان امریکا اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کے اچانک اختتام کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کینیڈا کی تجارتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکی کسانوں پر عائد مبینہ زیادہ ٹیرف کا بھی ذکر کیا۔
امریکا اور کینیڈا کے تجارتی مذاکرات ناکام
امریکا اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات کئی اہم معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ناکام ہوگئے۔
مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کردیا، جو تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا کو متاثر کرے گا۔
نئے محصولات نے پہلے سے کشیدہ امریکی-کینیڈین تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کردیا ہے۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور دیگر شعبوں سے متعلق تجارتی پابندیوں میں نرمی کے امکانات پیدا ہوئے تھے، تاہم اہم معاملات پر اختلافات دور نہ ہوسکے۔
ٹرمپ نے ’51ویں ریاست‘ کا مؤقف پھر دہرادیا
ٹرمپ کے تازہ بیان میں کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی ان کی پرانی تجویز بھی دوبارہ سامنے آگئی ہے۔
امریکی صدر 2024 کے آخر سے متعدد مرتبہ یہ خیال پیش کر چکے ہیں، تاہم کینیڈین رہنما اس تجویز کو مسترد کرتے رہے ہیں اور واضح کرچکے ہیں کہ کینیڈا کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹیرف کے معاملے پر شدید اختلافات جاری ہیں۔
کینیڈا کا جوابی اقدام
امریکی ٹیرف کے جواب میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی امریکا کے خلاف جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا 8 ستمبر سے ڈالر کے بدلے ڈالر کے اصول کے تحت جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔ ان اقدامات میں امریکی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، الیکٹرانکس اور زرعی آلات سمیت مختلف اشیا کو نشانہ بنایا جائے گا۔
کارنی نے امریکی شرائط کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کینیڈا کے معاشی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا
مذاکرات کی ناکامی اور ایک دوسرے کی مصنوعات پر نئے محصولات کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امریکا اور کینیڈا دنیا کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ہر سال اربوں ڈالر کی اشیا اور خدمات کی تجارت ہوتی ہے۔ طویل تجارتی تنازع کاروباری اداروں کے اخراجات بڑھانے، سپلائی چین کو متاثر کرنے اور صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس تنازع سے USMCA یعنی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
امریکا اور کینیڈا کے تعلقات مزید کشیدہ
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات تجارت، ٹیرف اور کینیڈا کی خودمختاری کے معاملات پر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا، جبکہ امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا۔
تاہم مذاکرات کی ناکامی، نئے امریکی ٹیرف اور کینیڈا کی جوابی کارروائی نے دونوں دیرینہ اتحادیوں کو ایک ایسے تجارتی تنازع کے قریب پہنچا دیا ہے جس کے اثرات دونوں ممالک کی معیشتوں اور صارفین پر پڑ سکتے ہیں۔
