پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما سہیل آفریدی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد مکمل ہو چکا ہے اور اس مارچ کا بنیادی مقصد دارالحکومت میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کئی ہفتوں کی مشاورت اور اندرونی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ مارچ محض ایک جلسہ نہیں بلکہ قانونی مشکلات اور قیادت کی قید کے بعد سیاسی دباؤ کو کم کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔
سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ احتجاج سے پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مقامی تنظیمی ڈھانچوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کارکنوں کی بڑی تعداد کو اسلام آباد لایا جا سکے۔ پارٹی کا مطالبہ وہی ہے: بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور مبینہ طور پر آئینی بالادستی کی بحالی۔
دوسری جانب حکومت نے اس احتجاج سے نمٹنے کے لیے روایتی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی چوک تک پہنچنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بھاری پولیس نفری کے ذریعے بند کیا جائے گا۔ ماضی میں بھی حکومت اسی طرح کے اقدامات کے ذریعے پی ٹی آئی کے احتجاج کو ناکام بناتی رہی ہے، جس سے انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان ایک مستقل کشمکش جاری ہے۔
ٹی ٹی اے پی کے ساتھ اتحاد کا مقصد احتجاجی دائرے کو وسیع کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اس اتحاد کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ تحریک صرف ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ اس میں دیگر سیاسی قوتیں بھی شامل ہیں۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ اس اتحاد میں وہ ہم آہنگی نہیں جو دارالحکومت میں طویل دھرنے یا احتجاج کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
27 ستمبر کے احتجاج کی کامیابی کا انحصار پی ٹی آئی کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ ریاستی رکاوٹوں کو کیسے عبور کرتی ہے۔ دارالحکومت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے اور دونوں فریقین ایک ایسے ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہے ہیں جو پہلے سے منقسم سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
یہ مارچ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے یا پھر پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کا ایک اور موڑ، اس کا فیصلہ کارکنوں کی شرکت اور حکومت کے جوابی اقدامات کی شدت کرے گی۔
