وفاقی حکومت نے آج جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے قومی منصوبے کے لیے 50 ملین ڈالر کی اضافی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان "گرین کینوپی” مہم کے تحت دو ملینواں پودا لگائے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ فنڈز آئندہ تین مالی سالوں میں شمالی صوبوں میں مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ سنگ میل ایک ایسی 18 ماہ طویل مہم کے نتیجے میں عبور ہوا جسے ناقدین ابتدا میں محض ایک "علامتی اقدام” قرار دے رہے تھے۔ محکمہ جنگلات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لگائے گئے پودوں میں سے 82 فیصد پودے — جن میں زیادہ تر مقامی بلوط اور دیودار شامل ہیں — کامیابی سے اپنی جڑیں پکڑ چکے ہیں۔ یہ شرح سرکاری سطح پر کیے جانے والے بڑے منصوبوں میں عام طور پر دیکھی جانے والی 65 فیصد کامیابی کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
منصوبے کی لیڈ کوآرڈینیٹر سارہ جینکنز نے کہا، "ہم صرف اعداد و شمار کے لیے پودے نہیں لگا رہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہماری پوری توجہ اس بات پر رہی ہے کہ جو پودے خشک ہوئے، انہیں تبدیل کیا جائے اور انہیں بروقت پانی اور دیکھ بھال فراہم کی جائے تاکہ وہ واقعی درخت بن سکیں۔”
نئی فنڈنگ کا مقصد صرف نئے پودے لگانا نہیں ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ 50 ملین ڈالر کا 40 فیصد حصہ ان درختوں کی طویل مدتی دیکھ بھال اور نگرانی پر خرچ ہوگا، جو ماضی کے سرکاری ماحولیاتی منصوبوں کی سب سے بڑی کمزوری رہی ہے۔ مقامی ٹھیکیداروں کو بھی ادائیگیوں کا ایک نیا اور محفوظ نظام دیا گیا ہے تاکہ موسم سرما میں بھی کام بلا تعطل جاری رہ سکے۔
منصوبے کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ایسے وقت میں جب دیہی علاقوں میں سڑکوں کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے، اتنی بڑی رقم جنگلات پر خرچ کرنا ترجیحات کا غلط تعین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ درختوں کے طویل مدتی ماحولیاتی فوائد اپنی جگہ، لیکن یہ ان کسانوں کی فوری لاجسٹک مشکلات کا حل نہیں ہیں جو ان علاقوں میں رہ رہے ہیں۔
وزیر ماحولیات نے صبح کی بریفنگ میں ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لکڑی کی اقتصادی قدر اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کی بدولت یہ سرمایہ کاری ایک دہائی کے اندر خود کو پورا کر لے گی۔
فی الحال، سارا زور عملی کام پر ہے۔ شجرکاری کرنے والی ٹیمیں جمعہ تک مغربی پہاڑی سلسلوں میں مزید 5 لاکھ پودے لگانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کیا حکومت 2027 تک ایک کروڑ پودے لگانے کا اپنا ہدف حاصل کر پائے گی؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ نئی فنڈنگ مزدوروں کو میدان میں برقرار رکھنے اور اگلے سال کی تپتی گرمی میں پودوں کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوگی یا نہیں۔
