قدرتی ماحول کو درپیش خطرات میں ایک ایسا محاذ بھی ہے جہاں جنگیں بندوقوں سے نہیں، بلکہ کدالوں اور بھاری مشینری سے لڑی جا رہی ہیں۔ یورپ اور برطانیہ کے دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے قدیم دلدلی علاقے اب تیزی سے سوکھ رہے ہیں، اور ماہرینِ ماحولیات انہیں دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کیچڑ میں دھنس کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
دہائیوں تک ان علاقوں کو زرعی زمین یا جنگلات کے حصول کے لیے خشک کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زمین پھٹ گئی اور کاربن جذب کرنے کے بجائے فضا میں خارج کرنے لگی۔ اب بحالی کا کام کرنے والی ٹیمیں ان نکاسی کے نالوں کو بند کر رہی ہیں تاکہ پانی کو روکا جا سکے اور زمین کی نمی کو بحال کیا جا سکے۔ یہ کام بظاہر سادہ لگتا ہے، لیکن گھٹنوں تک گہرے کیچڑ میں ڈیم بنانا اور پھر کائی کے دوبارہ اگنے کا انتظار کرنا ایک صبر آزما عمل ہے۔
ان دلدلی علاقوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ زمین کے کل رقبے کے صرف تین فیصد حصے پر پھیلے ہوئے ہیں، لیکن دنیا بھر کے جنگلات سے دو گنا زیادہ کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب یہ علاقے خشک ہوتے ہیں تو ان میں صدیوں سے قید کاربن آکسیجن کے ساتھ مل کر فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ صرف نایاب پودوں یا پرندوں کو بچانے کی مہم نہیں، بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے بحران کا ایک کلیدی حل ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے پہاڑی علاقوں میں بحالی کے منصوبوں کی نگران سارہ جینکنز کہتی ہیں، "ہم ایک صدی کے نقصان کو ایک موسم میں پلٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوئی بٹن دبانے جیسا کام نہیں ہے۔ ہم ڈیم بناتے ہیں، بارش کا انتظار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کائی جڑ پکڑ لے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کاربن کا اخراج جاری رہے گا۔”
یہ عمل انتہائی سست ہے۔ ایک جنگل تو چند برسوں میں نظر آنے لگتا ہے، لیکن ایک صحت مند دلدلی زمین کی تہہ سال میں صرف ایک ملی میٹر بنتی ہے۔ ہزاروں سال کی محنت سے بننے والی یہ تہہ جب ایک بار تباہ ہو جائے تو اسے دوبارہ بننے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر آنے والی لاگت بہت زیادہ ہے، اور اس کے مقابلے میں درخت لگانا آسان ہے۔ لیکن درختوں کو آگ لگنے یا بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے، جبکہ ایک گیلی اور دلدلی زمین قدرتی طور پر آگ کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دور میں یہ کیچڑ سے بھرے علاقے دراصل زمین کے لیے سب سے بہترین انشورنس پالیسی ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس وقت یہ کام خاموشی سے جاری ہے۔ یہ ایک ایسی دوڑ ہے جو بڑے بڑے عالمی کانفرنس ہالوں سے دور، کیچڑ اور پانی کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ اس محنت کا نتیجہ کسی اخباری بیان میں نہیں، بلکہ اس دن نظر آئے گا جب زمین دوبارہ اپنی نمی کو سینے سے لگا لے گی۔
