ایپل نے اپنے پرانے آئی فونز اور میک بکس کی ایک بڑی کھیپ کو ‘آؤٹ ڈیٹڈ’ قرار دے کر ان کی سپورٹ مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب دنیا بھر میں موجود ایپل اسٹورز اور مجاز سروس سینٹرز ان ڈیوائسز کی مرمت یا پرزہ جات کی فراہمی کے پابند نہیں ہوں گے۔
ایپل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین دستاویزات کے مطابق، آئی فون 6s پلس اور آئی فون 6s (خاص طور پر 32 جی بی سٹوریج ماڈلز) اب باضابطہ طور پر متروک فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان کے ساتھ 2015 میں متعارف کرایا گیا 12 انچ کا میک بک بھی اب کمپنی کی سپورٹ لسٹ سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ وہی میک بک تھا جس نے ایپل کی الٹرا پورٹیبل لیپ ٹاپ ڈیزائننگ کی بنیاد رکھی تھی۔
ایپل کی پالیسی کے تحت، جب کسی پروڈکٹ کی فروخت بند ہوئے سات برس گزر جائیں، تو اسے ‘آؤٹ ڈیٹڈ’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب صارفین کو ان ڈیوائسز کی مرمت کے لیے ایپل کے بجائے کسی نجی یا غیر مجاز ریپئر شاپ پر انحصار کرنا پڑے گا، کیونکہ ایپل کے اپنے نیٹ ورک میں اب ان کے پرزے دستیاب نہیں ہوں گے۔
12 انچ کے میک بک کا رخصت ہونا ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ 2015 میں پیش کیا گیا یہ لیپ ٹاپ اپنے ‘بٹر فلائی’ کی بورڈ اور واحد یو ایس بی-سی پورٹ کی وجہ سے کافی متنازع رہا تھا۔ اگرچہ یہ اپنی جسامت کے لحاظ سے جدید تھا، لیکن کی بورڈ میں خرابیوں نے اسے ایپل کی تاریخ کا ایک پیچیدہ باب بنا دیا، جس پر کمپنی کو بعد ازاں بھاری ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، آئی فون 6s اور 6s پلس کو ایپل کی تاریخ کے سب سے پائیدار ہینڈ سیٹس میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے تقریباً سات سال تک سافٹ ویئر اپ ڈیٹس حاصل کیں۔ آئی او ایس 16 کے اجرا کے ساتھ ہی ان فونز کے لیے اپ ڈیٹس کا سلسلہ پہلے ہی ختم ہو چکا تھا، اور اب یہ انتظامی فیصلہ ان کے مکمل خاتمے کی آخری کڑی ہے۔
ان ڈیوائسز کو استعمال کرنے والوں کے لیے اصل خطرہ صرف مرمت کا نہ ہونا نہیں، بلکہ سیکیورٹی پیچز کا نہ ملنا ہے۔ سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے بغیر یہ آلات سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اگر آپ اب بھی ان میں سے کوئی ڈیوائس بطور ‘ڈیلی ڈرائیور’ استعمال کر رہے ہیں، تو یہ سمجھ لیں کہ اب اپ گریڈ کا وقت آ چکا ہے۔
