پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبے میں سیاحوں اور غیر ملکی شہریوں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے آج صبح اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ کیس میں کسی بھی قسم کا سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تحقیقاتی ٹیموں سے فوری طور پر جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ "انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ تحقیقات میں کسی بھی قسم کی غفلت کو مجرمانہ غفلت سمجھا جائے گا۔”
اگرچہ پولیس نے تاحال حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ، جو اس وقت ایک اسپیشل بورڈ کے زیرِ غور ہے، پراسیکیوشن کے کیس کا مرکزی نقطہ ہوگی۔
اس واقعے نے پنجاب میں غیر ملکی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے قائم انفراسٹرکچر پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ‘سیف سٹی’ منصوبوں کے دعووں کے باوجود، سنگین جرائم پر ریاست کا ردعمل تاحال پیشگی اقدامات کے بجائے واقعے کے بعد کی کارروائی تک محدود ہے۔
صوبائی حکومت کے لیے یہ کیس ایک کڑا امتحان ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کی نظریں اس پیش رفت پر جمی ہیں، اور اس کیس میں سزا کا حصول حکومت کے قانون کی حکمرانی کے دعووں کی ساکھ کو ثابت کرے گا۔
پولیس نے 48 گھنٹوں کے اندر ابتدائی چالان جمع کرانے کا وعدہ کیا ہے، جو کیس کی حساسیت اور سفارتی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، کیا پولیس اس رفتار کو برقرار رکھ سکے گی یا یہ معاملہ بھی مقامی عدالتوں میں طویل التوا کا شکار ہوگا، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
