کراچی، 19 مئی — کراچی کی سیشن عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے انمول عرف “پنکی” کے ریمانڈ کی کارروائی سینٹرل جیل کراچی کے اندر قائم جوڈیشل کمپلیکس میں کرنے کی اجازت دے دی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمہ کو سٹی کورٹ میں پیش کرنا امن و امان اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ حکم سیشن جج ظہور احمد ہکڑو نے جاری کیا۔ عدالت نے متعلقہ مجسٹریٹ کو ہدایت کی کہ انمول کو سٹی کورٹ لانے کے بجائے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا جائے۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی سے عوامی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے اور عدالتی کارروائی میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
انمول عرف پنکی کے خلاف متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ تازہ عدالتی حکم جس مقدمے سے متعلق ہے، وہ بغدادی تھانے میں ایف آئی آر نمبر 147/2026 کے تحت درج ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا الزام بھی شامل ہے۔
پیر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد انمول کو سینٹرل جیل کراچی کے جوڈیشل کمپلیکس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کلثوم مصطفیٰ کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت نے قتل کے مقدمے میں ان کا جسمانی ریمانڈ مزید چار روز کے لیے بڑھاتے ہوئے پولیس تحویل 22 مئی تک دے دی۔
پولیس نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ میں نو روز کی توسیع کی درخواست کی تھی، تاہم دفاعی وکیل نے اس کی مخالفت کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی یہ درخواست بھی منظور کی کہ مدعی کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے 21 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہو گیا ہے کہ انمول کے خلاف کئی مقدمات زیرِ کارروائی ہیں۔ ڈان کے مطابق انہیں گزشتہ ہفتے کراچی میں ان کے اپارٹمنٹ سے منشیات اور غیر لائسنس یافتہ اسلحے کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ اس سے پہلے بھی وہ متعدد مقدمات میں نامزد تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کے خلاف فعال مقدمات کی تعداد کم از کم 15 ہے۔
سماعت کے دوران انمول نے الزام لگایا کہ ان پر “نام لینے” کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے وکیل نے بھی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ پر سیاستدانوں، اداکاراؤں اور دیگر بااثر شخصیات کو جھوٹا ملوث کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ انمول سے تفتیش خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں کی جائے اور میڈیکو لیگل افسر سے طبی معائنے کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
ایک الگ پیش رفت میں سٹی کورٹ کے سیشن جج نے درخشاں پولیس کی وہ نظرثانی درخواست مسترد کر دی جس میں پانچ مقدمات میں انمول کے جوڈیشل ریمانڈ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اس لیے مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو پولیس متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔
فی الحال یہ کیس دو سطحوں پر آگے بڑھ رہا ہے: ایک طرف قتل کے مقدمے میں پولیس کو مزید جسمانی ریمانڈ مل گیا ہے، دوسری طرف منشیات، اسلحہ اور دیگر مقدمات بھی عدالتوں میں موجود ہیں۔
عدالت کا ریمانڈ کارروائی جیل کمپلیکس منتقل کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ اب صرف ایک معمول کی عدالتی پیشی نہیں رہا۔ حکام کو خدشہ ہے کہ سٹی کورٹ میں پیشی ملزمہ، پولیس، عدالتی عملے، وکلا اور عام شہریوں کے لیے سیکیورٹی مسئلہ بن سکتی ہے۔
