واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر منگل کو کیا جانے والا مجوزہ حملہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ ان کے بقول اس وقت “سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کا “بہت اچھا امکان” موجود ہے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی فوج کارروائی کے لیے تیار رہے گی۔ Reuters کے مطابق ایران کی جانب سے ایک نئی تجویز پاکستان کے ذریعے پہنچائی گئی، جبکہ خلیجی ممالک نے واشنگٹن سے کہا کہ سفارتی کوششوں کو مزید دو سے تین دن دیے جائیں۔
امریکا نے اس حملے کا پہلے باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا، مگر ٹرمپ کے بیان سے واضح ہوا کہ امریکی فورسز کو بڑے پیمانے کی کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ AP کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور اماراتی قیادت کو امید ہے کہ ایک قابل قبول امن معاہدہ قریب ہے، اسی لیے حملہ فی الحال روک دیا گیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کئی ہفتوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور اس سے منسلک گروہوں پر خلیجی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات لگے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ کے قریب پیش آنے والا واقعہ بھی شامل ہے۔ The Guardian نے IAEA کے حوالے سے بتایا کہ ڈرون حملے کے بعد پلانٹ کی بجلی بحال کر دی گئی۔
ایران نے مذاکرات کی تصدیق تو کی ہے، لیکن کمزوری کا تاثر دینے سے گریز کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ “مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں”، اور تہران اپنے قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ بات چیت میں شامل ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی نئی امریکی یا اتحادی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
تنازعے کا اصل مرکز ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ Reuters کے مطابق واشنگٹن محدود رعایتوں پر غور کر سکتا ہے، جن میں منجمد ایرانی اثاثوں تک جزوی رسائی اور پرامن جوہری سرگرمیوں کی محدود اجازت شامل ہو سکتی ہے۔
خلیجی ممالک کی مداخلت اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض، دوحہ اور ابوظہبی خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ممالک امریکا کے قریبی اتحادی ہیں، مگر اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست لڑائی پھیلتی ہے تو اس کے فوری اثرات بھی انہی ریاستوں پر پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال حملہ مؤخر ہوا ہے، ختم نہیں۔ یہی بات اس خبر کو زیادہ حساس بنا رہی ہے۔
