اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پیر، 18 مئی 2026 کو دو اہم بل منظور کر لیے جن میں ایک کا تعلق بینکوں کی طرف سے قرضوں کی وصولی کے قانونی طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنانے سے ہے، جبکہ دوسرا پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے انتظامی و قانونی ڈھانچے میں ترمیم سے متعلق ہے۔ منظور کیے گئے مسودات میں فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانس) ترمیمی بل 2026 اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔
پہلا بل خاص طور پر مالیاتی شعبے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دستیاب پارلیمانی اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس ترمیم کا مقصد بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے لیے نادہندہ قرضوں کی وصولی کا عمل زیادہ واضح، تیز اور قانونی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ متعلقہ قائمہ کمیٹی میں اس قانون کے مختلف نکات پر غور کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مجوزہ تبدیلیاں رہن، نوٹسز اور ریکوری کے طریقۂ کار کو زیادہ منظم شکل دینے کے لیے لائی گئی ہیں تاکہ مقدمات اور ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر کم ہو۔
کمیٹی کی کارروائی سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ بل میں ایک ایسی شق پر تفصیلی بحث ہوئی جس کے تحت قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں پہلے، دوسرے اور آخری نوٹس کے لیے الگ الگ مدت رکھی گئی۔ رپورٹوں کے مطابق ہر مرحلے میں کم از کم 30 دن کا وقفہ زیر بحث آیا، تاکہ ریکوری کارروائی ایک باقاعدہ قانونی ترتیب کے تحت آگے بڑھے۔ حکومت اور حامی ارکان کا مؤقف یہ تھا کہ مالیاتی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بینکوں کو رقوم کی بروقت وصولی کا مؤثر راستہ میسر ہو۔
تاہم اس قانون سازی پر بعض تحفظات بھی سامنے آئے۔ کمیٹی کے چند ارکان نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر حفاظتی تقاضے واضح نہ ہوں تو سخت ریکوری اختیارات عام قرض لینے والوں، خاص طور پر گھریلو فنانسنگ سے وابستہ افراد، پر غیر متوازن دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بینکوں کے قانونی حقوق اور قرض لینے والوں کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رہنا چاہیے، تاکہ قانون کا استعمال من مانی یا غیر منصفانہ انداز میں نہ ہو۔
دوسری جانب پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کو ہوا بازی اور ہوائی اڈوں کے انتظامی نظام میں جاری اصلاحات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق یہ بل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2023 میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اگرچہ عام دستیاب خبروں میں اس کے تمام قانونی نکات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم اسے ایئرپورٹس اتھارٹی کے انتظام، دائرۂ اختیار اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ دونوں بل ایک ایسے وقت میں منظور ہوئے ہیں جب حکومت قومی اسمبلی سے مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی نوعیت کے متعدد قوانین منظور کرا رہی ہے۔ حالیہ اجلاسوں میں قرضہ جاتی نظم، مالیاتی اداروں کی نگرانی اور معاشی ڈھانچے سے متعلق دیگر قانونی اقدامات بھی زیر بحث رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ان بلوں کی منظوری کو محض معمول کی قانون سازی نہیں بلکہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو بینک قرضہ وصولی سے متعلق ترمیم کے اثرات سب سے پہلے مالیاتی شعبے اور نادہندہ قرضوں کے معاملات میں نظر آئیں گے۔ اگر قانون اپنے مجوزہ انداز میں نافذ ہوتا ہے تو بینکوں کے لیے ریکوری کا راستہ نسبتاً تیز ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی برقرار رہے گا کہ عام صارف اور کمزور قرض دار کو کس حد تک قانونی تحفظ ملتا ہے۔ اسی طرح ایئرپورٹس اتھارٹی سے متعلق ترمیم کے اصل اثرات تب زیادہ واضح ہوں گے جب اس کے مکمل متن اور بعد کی انتظامی کارروائی سامنے آئے گی۔
