پاکستان میں غیر بینک شدہ آبادی کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کی مہم کے نتائج اب اعداد و شمار میں واضح نظر آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، برانچ لیس بینکنگ اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے برسوں سے جاری جمود کو توڑ دیا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈیجیٹل بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ صرف ایک ہندسہ نہیں، بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں مقیم ان لاکھوں افراد کی معاشی شمولیت کی کہانی ہے جو اب تک نقد لین دین کے روایتی اور غیر محفوظ طریقوں تک محدود تھے۔ اب ایک چھوٹا دکاندار یا کسان اپنے موبائل فون سے ادائیگیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس پیش رفت کے پیچھے ‘راست’ انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم کا کلیدی کردار ہے۔ مرکزی بینک نے ٹرانزیکشن فیس ختم کر کے اور اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو انتہائی آسان بنا کر عام آدمی کے لیے بینکنگ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ کراچی کی کسی چھوٹی مارکیٹ سے لے کر پنجاب کے دور دراز دیہات تک، اسمارٹ فون اب ایک ایسی جیبی بینک برانچ بن چکا ہے جو کسی بھی وقت دستیاب ہے۔
تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی تو پھیل رہی ہے لیکن مالیاتی خواندگی کی شرح اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ بہت سے نئے صارفین اکاؤنٹ تو کھول رہے ہیں، مگر انہیں ڈیجیٹل فراڈ سے بچنے یا قرض کی سہولیات کے درست استعمال کا علم نہیں ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عوامی آگاہی مہمات کو تیز نہ کیا گیا تو صارفین کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب کمرشل بینکوں کا رویہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ جو بینک پہلے کم آمدنی والے طبقے کو خدمات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اب وہ فن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ لاکھوں نئے صارفین صرف اکاؤنٹ ہولڈرز نہیں، بلکہ مستقبل کی قرضہ جات کی مارکیٹ ہیں۔
حکومت کا نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی کا ہدف 2025 تک نصف آبادی کو مالیاتی نیٹ ورک میں لانا ہے۔ موجودہ رجحانات بتاتے ہیں کہ پاکستان اس ہدف کو حاصل کرنے کے قریب ہے۔
اب اصل امتحان اکاؤنٹس کے فعال رہنے کا ہے۔ اکاؤنٹ کھولنا صرف پہلا قدم ہے؛ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ ڈیجیٹل سہولیات عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر اسے معاشی خودمختاری فراہم کریں گی۔
