شافی جان نے حکومت کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 27 ستمبر کو ہونے والے مارچ میں 20 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔ اگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے تو یہ موجودہ سیاسی کشمکش میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تعداد کا مطلب صرف ایک جلسہ نہیں، بلکہ دارالحکومت کے نظامِ زندگی کو مکمل مفلوج کرنے کی کوشش ہے۔ اتنے بڑے ہجوم کے لیے درکار لاجسٹکس، سکیورٹی اور سپلائی لائنز کا کوئی ٹھوس منصوبہ تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم جان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ نچلی سطح پر متحرک کارکنوں کی تعداد ان کے اپنے اندازوں سے بھی بڑھ چکی ہے۔
منگل کی شب اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے شافی جان نے کہا، "اب ہم کسی سے اجازت نہیں مانگیں گے؛ 27 ستمبر کی شام تک سڑکیں ہی اس حکومت کا فیصلہ کر دیں گی۔”
حکومتی حلقوں میں اس دعوے کو محض سیاسی بیان بازی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکمراں جماعت کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندسے صرف میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا ایک حربہ ہیں۔ تاہم، وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکام "بڑے پیمانے پر ممکنہ خلل” کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اگرچہ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
حکومت کے لیے اصل تشویش صرف شرکاء کی تعداد نہیں، بلکہ اس احتجاج کا طویل دھرنے میں بدل جانا ہے۔ ماضی میں اسی نوعیت کے مظاہروں نے شہر کے کاروباری مراکز کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا، جس کے معاشی اثرات عام آدمی پر براہِ راست پڑتے ہیں۔
شہریوں میں 27 ستمبر کی تاریخ کو لے کر بے چینی بڑھ رہی ہے۔ تجارتی مراکز میں دکانیں بند رکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو اہم شاہراہوں کی ممکنہ بندش کا خدشہ ہے۔
مارچ میں کتنے لوگ نکلیں گے، یہ تو 27 ستمبر کو ہی واضح ہوگا، لیکن اس دعوے نے سیاسی درجہ حرارت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ اب حکومت کے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو کسی ایسی تحریک سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے جو کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں، یا پھر ایسی تصادم کی صورتحال کا سامنا کرے جو ان کی مدتِ اقتدار کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
